Main Icon

باب : جماعت اور اس کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1068

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنِ اتِّبَاعِهٖ عُذْرٌ» قَالُوا وَمَا الْعُذْرُ؟ قَالَ: «خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلّٰى » . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارَقُطْنِيُّ

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من سمع المنادي فلم يمنعه من اتباعه عذر» قالوا وما العذر؟ قال: «خوف أو مرض لم تقبل منه الصلاة التي صلى » . رواه أبو داود والدارقطني

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو مؤذن کی اذان سنے اور اس کی اطاعت سے کوئی عذر منع نہ کرے لوگوں نے کہا عذر کیا ہے فرمایا ڈریا بیماری تو اس کی وہ نماز قبول نہ ہوگی جو گھر میں پڑھے ۱؎(ابوداؤد)اور دارقطنی۔

شرح حدیث

۱∞؎ڈر سے مراد دشمن یا موذی جانور کا خوف ہے جو گھر یا مسجد کے درمیان حائل ہو۔مرض سے مراد وہ بیماری ہے جو مسجد میں آنے سے روکے،ان دونوں حالتوں میں گھر میں نماز پڑھ لینے کی اجازت ہے لیکن اگر کوئی ان صورتوں میں بھی بتکلف مسجد میں پہنچ جائے تو ثواب پائے گا جیسا کہ اگلی روایتوں میں آرہا ہے کہ صحابہ کبار سخت بیماری میں بھی دوسروں کے کندھوں پر مسجد میں آتے تھے،یہ عزیمت پر عمل تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تارک جماعت کی نماز شرعًا جائز ہوگی اگرچہ عند الله قبول نہ ہو،نماز جمعہ وعیدین اکیلے جائز ہی نہیں ان کے لیے جماعت شرطِ جوازہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1068