Main Icon

باب : جماعت اور اس کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1079

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أم الدَّرْدَاء قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَهُوَ مُغْضَبٌ فَقُلْتُ: مَا أَغْضَبَكَ؟ قَالَ: وَاللهِ مَا أَعْرِفُ مِنْ أَمْرِ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

وعن أم الدرداء قالت: دخل علي أبو الدرداء وهو مغضب فقلت: ما أغضبك؟ قال: والله ما أعرف من أمر أمة محمد صلى الله عليه وسلم شيئا إلا أنهم يصلون جميعا. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام درداء سے فرماتی ہیں ایک بار میرے پاس ابودرداء غصے میں آئے میں نے کہا آپ کو کس چیز نے غصہ دلایا فرمایا الله کی قسم میں محمد مصطفے صلی الله علیہ وسلم کی امت کے کاموں میں سے صرف یہ پاتا ہوں کہ وہ نماز جماعت سے پڑھ لیتے ہیں ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ام الدرداء حضرت ابو الدرداء کی بیوی ہیں ان کا نام خیرہ ہے۔ ابوالدرداء نے اپنے شہر والوں کی ان سے شکایت کی، اسی شہر والوں نے مسلمانوں کے سارے کام چھوڑ دیئے یا بدل دیئے صرف نماز باجماعت باقی تھی،اب ان میں بھی سستی کرنے لگے۔خیال رہے کہ حضرت ابو الدرداء بڑے زاہد،تارک الدنیا،روزہ دار،شب بیدار صحابی تھے حتی کہ ام الدرداء نے بناؤ سنگار چھوڑ دیا تھا،حضرت سلمان فارسی کے پوچھنے پر کہا کہ میں سنگار کس لیے کروں میرے خاوند کو عبادت سے فرصت ہی نہیں جو میری طرف توجہ کریں،آپ چاہتے یہ تھے کہ سارے مسلمان مجھ جیسے عابد و زاہد ہوں،جس شہر میں آپ تھے وہاں کے باشندے اس درجے کے زاہد نہ تھے، اس کی آپ شکایت کررہے ہیں کہ یہ لوگ نہ راتوں کو جاگتے ہیں نہ اشراق وغیرہ کی پابندی کرتے ہیں ہاں جماعت کے پابند ہیں تو اس میں بھی کمی کرنے لگے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ صحابہ دین کی ساری باتیں چھوڑ چکے تھے جیسا کہ روافض نے اس حدیث سے سمجھا وہ زمانہ خیر القرون میں سے تھا، اس کی بہتری کی گواہی قرآن و حدیث دے رہے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1079