Main Icon

باب : جماعت اور اس کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1078

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أمِّ مَكْتُومٍ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ وَأَنَا ضَرِيرُ الْبَصَرِ فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ رُخْصَةٍ؟ قَالَ: «هَلْ تَسْمَعُ حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَی الفَلَاحِ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَحَيَّ هَلًا» . وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهٗ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

وعن عبد الله بن أم مكتوم قال: يا رسول الله إن المدينة كثيرة الهوام والسباع وأنا ضرير البصر فهل تجد لي من رخصة؟ قال: «هل تسمع حي علی الصلاة حي علی الفلاح؟» قال: نعم. قال: «فحي هلا» . ولم يرخص له . رواه أبو داود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن ام مکتوم سے انہوں نے عرض کیا یارسول الله مدینہ بہت کیڑوں اور درندوں والا ہے ۱؎اور میں نابینا ہوں تو کیا آپ میرے لیے اجازت پاتے ہیں ۲؎فرمایا کیا تم "حی علی الصلوۃ،حی علی الفلاح" سنتے ہو ۳؎عرض کیا ہاں فرمایا آؤ اور انہیں اجازت نہ دی۴؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے،مدینہ منورہ وباؤں اور بیماریوں کا گھر تھا، آپ کے قدم پاک نے وہاں سے وباؤں کو نکال کر وہاں کی مٹی کو بھی شفا بنادیا،فرماتے ہیں"تُرْبَۃُ اَرْضِنَا یَشْفِیْ سَقَیْمَنَا" ہمارے مدینہ کی مٹی بیماروں کو شفا دیتی ہے لیکن اولًا بچھو کچھ سانپ اور بھیڑیے وغیرہ رہے بعد میں الله نے ان چیزوں سے زمین مدینہ کو قریبًا صاف کردیا یعنی یثرب کو طیبہ بنادیا۔چنانچہ فقیر نے وہاں دیکھا کہ دیوانے کتے،بھیڑیئے،سانپ قریبًا نہیں البتہ بچھو دیکھے جاتے ہیں۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب وہاں یہ موذی چیزیں موجود تھیں۔
۲
؎اس بات کی کہ میں ان عذروں کی وجہ سے مسجد میں حاضر نہ ہوا کروں اور گھر میں نماز پڑھ لیا کرو۔
۳
؎اس سے مراد پوری اذان ہے مگر نماز کے بلاوے کے یہ دو ہی لفظ ہیں اس لیے ان کا ذکر خصوصیت سے فرمایا۔(مرقاۃ)
۴
؎کیونکہ ان کے پاس کوئی لانے والا موجود تھا اور گھر بھی ان کا مسجد سے قریب تھا جس نابینا کو حضور صلی الله علیہ وسلم نے مسجد کی حاضری معاف فرمائی ہے ان کے پاس کوئی لانے والا نہ تھا لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد سے قریب رہتے ہوئے نابینا پر بھی مسجد کی حاضری معاف نہیں،افسوس ان لوگوں پر جوبلا عذر مسجد میں نہ آئیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1078