Main Icon

باب : جماعت اور اس کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1054

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ أَعْمٰى فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهٗ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى المَسْجِدِ فَسَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَخِّصَ لَهٗ فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهٖ فَرَخَّصَ لَهٗ فَلَمَّا وَلّٰى دَعَاهُ فَقَالَ: «هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «فَأَجِبْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل أعمى فقال: يا رسول الله إنه ليس لي قائد يقودني إلى المسجد فسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يرخص له فيصلي في بيته فرخص له فلما ولى دعاه فقال: «هل تسمع النداء بالصلاة؟» قال: نعم قال: «فأجب» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں نابینا شخص حاضر ہوا عرض کیا یارسول الله میرے پاس کوئی لانے والا نہیں جو مجھے مسجد تک لائے اس نے حضور انور صلی الله علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ انہیں اپنے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں حضور نے انہیں اجازت دے دی جب انہوں نے پیٹھ پھیری تو بلایا اور فرمایا کیا تم نماز کی اذان سنتے ہو عرض کیا ہاں فرمایا تو قبول کرو ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مؤذن کے بلاوے کو قبول کرو اور مسجد میں حاضر ہوجاؤ۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک کہ جہاں تک اذان کی آواز پہنچے وہاں تک کہ لوگوں کو مسجد میں آنا بہت ضروری ہے ،وہ دور کے لوگ جہاں اذان نہ پہنچی ہو ان کے لیے بھی مسجد آنا بہت بہتر ہے مگر اتنی سختی نہیں،اس حدیث کا یہی مطلب ہے۔"لَاصَلوٰۃَ لِجَارِالْمَسْجِدِ اِلَّافِی الْمَسْجِد"۔دوسرے یہ کہ ہر بیماری عذر نہیں جو جماعت یا مسجد کی حاضری کو معاف کردے بلکہ وہ بیماری عذر ہے جس سے مسجد میں آنا ناممکن یا سخت مشکل ہوجائے،دیکھو نابینا ہیں بیمار ہیں مگر انہیں حاضری کا حکم ہوا،بعض روایات میں ہے کہ عتبان ابن مالک نابینا کو حضور صلی الله علیہ وسلم نے مسجد نہ آنے کی اجازت دے دی یا تو ان کا گھر دور ہوگا جہاں اذان کی آواز نہ پہنچتی ہوگی یا ان کا راستہ اتنا خراب ہوگا کہ بغیر ساتھی کے مسجد نہ پہنچ سکیں اور ساتھی کوئی ہوگا نہیں، لہذا احادیث میں تعارض نہیں اذان کی آواز پہنچے سے مراد آج کل کے لاؤڈ اسپیکر کی آواز نہیں یہ تو دو دو میل تک پہنچ جاتی ہے۔ بعض علماء نے ان احادیث کی بناء پر جماعت کو فرض عین مانا مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ حدیث ظنی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1054