Main Icon

باب : جماعت اور اس کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1073

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْلَا مَا فِي الْبُيُوتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالذُّرِّيَّةِ أَقَمْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ وَأَمَرْتُ فِتْيَانِي يُحْرِقُونَ مَا فِي الْبُيُوتِ بِالنَّارِ» . رَوَاهُ أَحْمدُ

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لولا ما في البيوت من النساء والذرية أقمت صلاة العشاء وأمرت فتياني يحرقون ما في البيوت بالنار» . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا اگر گھروں میں عورتیں بچے نہ ہوتے تو میں نماز عشاء قائم کرتا اور اپنے جوانوں کو حکم دیتا کہ وہ گھروں کی چیزوں کو آگ سے جلادیں ۱؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ مسجد میں نہ آنے والوں کے گھروں میں آگ لگادیں، اس کی شرح پہلے گزر چکی۔ خیال رہے کہ اگر ایسا واقعہ ہوتو جن نوجوانوں کو سرکار عالی صلی الله علیہ وسلم آگ لگانے بھیجتے ان پر نماز معاف ہوتی کیونکہ نجات تو حکم عالی کی اطاعت میں ہے۔ جماعت کا حکم دیں تو جماعت واجب،اگر جماعت چھوڑنے کا حکم دیں تو چھوڑنا واجب قسم رب کی اگر وہ ترک نماز سے راضی ہیں تو ترک نماز عبادت ہے اور اگر کسی کی نماز سے ناراض ہیں تو اس کے لیے وہ نماز حرام،مولیٰنا فرماتے ہیں شعر
ہر چہ گیر و علتی علت شود کفر گیرو ملتے ملت شود
اس کی نہایت نفیس اور لذیذتحقیق ہماری کتاب سلطنت"مصطفے ٰ"میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1073