Main Icon

باب : جماعت اور اس کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1081

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «اثْنَانِ فَمَا فَوْقَهُمَا جمَاعَةٌ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعن أبي موسى الأشعري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «اثنان فما فوقهما جماعة» . رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ دو اور دو سے زیادہ جماعت ہیں ۱؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر کہیں دو مسلمان بھی ہوں تو ایک امام بن جائے اور ایک مقتدی جماعت کا ثواب پائیں گے کیونکہ یہ حکمًا جماعت ہے یا یہ مطلب ہے کہ اگر امام کے سوا دو آدمی ہوں تو امام آگے کھڑا ہو کیونکہ یہ جماعت کے حکم میں ہیں بہرحال یہاں جماعت مراد ہے نہ کہ حقیقی بعض علماء نے فرمایا کہ یہ حدیث میراث کے متعلق ہے کہ دو وارثوں کا حصہ تین چار کے برابر ہی ہوتا ہے،چنانچہ ایک بیٹی کا آدھا اور دو یا زیادہ کا حصہ دو تہائی ہے،بہرحال اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دو آدمیوں کی جماعت سے جمعہ یا عیدین ادا ہوجائیں،وہاں جماعت حقیقی درکار ہے یعنی امام کے سوا تین مقتدی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1081