Main Icon

باب : جماعت اور اس کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1067

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ».رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

وعن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ما من ثلاثة في قرية ولا بدو لا تقام فيهم الصلاة إلا قد استحوذ عليهم الشيطان فعليك بالجماعة فإنما يأكل الذئب القاصية».رواه أحمد وأبو داود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابودرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس بستی یا جنگل میں تین آدمی ہوں اور ان میں نماز کی جماعت نہ کی جائے تو ان پر شیطان غالب آجاتا ہے ۱؎تم پر جماعت لازم ہے بھیڑیا دور والے جانور ہی کو کھاتا ہے۲؎(احمد، ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎کہ انہیں دوسرے ذکر و اذکار سے بھی روک دیتا ہے معلوم ہوا کہ نماز چھوڑنا غفلت کا دروازہ ہے۔
۲
؎کیونکہ وہ چرواہے کی نگاہ سے دور ہوجاتا ہے ایسے ہی جماعت کا تارک جناب مصطفی صلی الله علیہ وسلم کی نگاہ کرم سے محروم ہوجاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1067