Main Icon

باب : جماعت اور اس کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1080

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَدَ سُلَيْمَانَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ وَإِنَّ عُمَرَ غَدَا إِلَى السُّوقِ وَمَسْكَنُ سُلَيْمَانَ بَيْنَ الْمَسْجِدِ وَالسُّوقِ فَمَرَّ عَلَی الشِّفَاءِ أُمِّ سُلَيْمَانَ فَقَالَ لَهَا لَمْ أَرَ سُلَيْمَانَ فِي الصُّبْحِ فَقَالَتْ إِنَّهٗ بَاتَ يُصَلِّي فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَقَالَ عُمَرُ لَأَنْ أَشْهَدَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي الْجَمَاعَة أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُومَ لَيْلَةً. رَوَاهُ مَالِكٌ

وعن أبي بكر بن سليمان بن أبي حثمة قال: إن عمر بن الخطاب فقد سليمان بن أبي حثمة في صلاة الصبح وإن عمر غدا إلى السوق ومسكن سليمان بين المسجد والسوق فمر علی الشفاء أم سليمان فقال لها لم أر سليمان في الصبح فقالت إنه بات يصلي فغلبته عيناه فقال عمر لأن أشهد صلاة الصبح في الجماعة أحب إلي من أن أقوم ليلة. رواه مالك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوبکر ابن سلیمان ابن ابی حثمہ سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ابن خطاب نے صبح کی نماز میں سلیمان ابن ابی حثمہ کو نہ پایا ۱؎پھر جناب عمر بازار تشریف لے گئے سلیمان کا گھر مسجد اور بازار کے درمیان تھا تو آپ سلیمان کی والدہ شفاء پر گزرے ان سے فرمایا کہ میں نے سلیمان کو فجر میں نہ پایا ۲؎وہ بولیں وہ تمام رات نماز پڑھتے رہے پھر ان کی آنکھ لگ گئی تو حضرت عمر نے فرمایا کہ میرا فجر کی جماعت میں حاضر ہوجانا تمام رات کھڑے رہنے سے مجھے زیادہ پیارا ہے۳؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎سلیمان مشہور تابعی ہیں،قرشی ہیں،عدوی ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر فاروق بھی حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرح حاضرین مسجد کی تحقیق فرماتے تھے کہ کون نماز میں آیا اور کون نہیں۔
۲
؎کیا وہ بیمار ہیں یا کہیں سفر میں چلے گئے ہیں کیونکہ اس زمانہ میں کسی مسلمان کا جماعت میں نہ آنا اس کی بیماری یا سفر کی دلیل ہوتی تھی۔خیال رہے کہ حضرت شفاء کا نام لیلیٰ بنت عبد الله تھا،شفا ء لقب آپ مہاجرین اول میں سے تھیں بہت سے غزؤوں میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ رہیں،حضور صلی الله علیہ وسلم ان کے گھر میں دوپہر کا آرام فرمایا کرتے تھے۔
۳
؎کیونکہ جماعت خصوصًا فجر کی نماز جماعت اہم واجب ہے اور رات کی عبادت تہجد وغیرہ نفل، نفل کی وجہ سے واجب نہیں چھوڑنا چاہیئے۔مسلم شریف میں ہے کہ جو عشاء جماعت سے پڑھے،اس نے گویا آدھی رات عبادت کی اور جو فجر جماعت سے پڑھے اس نے گویا تمام رات عبادت کی اور ترمذی میں ہے کہ جو فجر و عشاء جماعت سے پڑھے اس نے گویا تمام رات عبادت کی،ترمذی کی روایت پہلی آیت کی تفسیر ہے،عطا فرماتے ہیں کہ اگر تہجد کی وجہ سے فجر کی جماعت جائے تو تہجد چھوڑ دو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1080