Main Icon

باب : جماعت اور اس کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1069

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَوَجَدَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلْيَبْدَأْ بِالْخَلَاءِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوٰى مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ نَحوَهُ

وعن عبد الله بن أرقم قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا أقيمت الصلاة ووجد أحدكم الخلاء فليبدأ بالخلاء» . رواه الترمذي وروى مالك وأبو داود والنسائي نحوه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن ارقم سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جب نماز کی تکبیر ہو اورتم میں سے کوئی پاخانے کی حاجت پائے تو پہلے پاخانے جائے ۲؎(ترمذی) مالک اور ابوداؤ ود نسائی نے اس کی مثل)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور صحابی ہیں،فتح مکہ کے سال ایمان لائے،کاتب وحی رہے،حضرت صدیق وفاروق کے کاتب،عثمان غنی کے بیت المال کے منتظم تھے مگر اجرت کبھی نہ لی۔
۲
؎تاکہ نماز اطمینان سے ادا ہو۔معلوم ہوا کہ یہ عذر بھی ترک جماعت کو مباح کردیتا ہے بلکہ اگر دوران نماز یہ حاجت پیش آجائے تو نماز توڑنا ضروری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1069