Main Icon

باب : جماعت اور اس کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1083

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَفِي رِوَايَةِ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ فَسَبَّهٗ سَبًّا مَا سَمِعْتُ سَبَّهٗ مِثْلَهٗ قَطُّ وَقَالَ: أُخْبِرُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ: وَاللهِ لَنَمْنَعْهُنَّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وفي رواية سالم عن أبيه قال: فأقبل عليه عبد الله فسبه سبا ما سمعت سبه مثله قط وقال: أخبرك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وتقول: والله لنمنعهن. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

اور سالم کی روایت میں اپنے والد سے ۱؎یوں ہے کہ فرمایا تب عبد الله ان پر متوجہ ہوئے اورا نہیں ایسی گالی دی جیسی گالی دیتے انہیں کبھی نہ سنا تھا۲؎اور فرمایا کہ میں تجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خبر دیتا ہوں اورتو کہتا ہے کہ خداکی قسم ہم تو انہیں منع کریں گے۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت سالم بھی عبد الله ابن عمر کے بیٹے اور بلال ابن عبد الله کے بھائی ہیں ۱۲
۲
؎یعنی انہیں بہت برا بھلا کہا۔یہاں گالی سے یہی مراد ہے نہ کہ ماں بہن کی فحش گالی کہ وہ توعامۃ المسلمینکی شان کے خلاف ہے،چہ جائیکہ صحابی،حدیث شریف میں ہے "لَاتَسُبُّوالدَّھْرَ"زمانہ کو گالی نہ دو یعنی اسے برا نہ کہو۔
۳
؎یعنی حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے فرمان کے موقعہ پر اپنی رائے پیش کرنا بے ادبی ہے تم نے یہ بے ادبی کیوں کی۔اس جگہ مرقاۃ اور شرح فقہ اکبر میں ہے کہ امام ابو یوسف نے تلوار سونت لی اور فرمایا دوبارہ ایمان لاؤ ورنہ تجھے قتل کروں گا۔معلوم ہوا کہ ایسی صحیح بات کہنا بھی بے ادبی ہے جس میں حدیث شریف کے مقابلے کی بو پائی جائے، جب حدیث کا یہ مطلب ہے تو سمجھ لو حدیث والے محبوب صلی الله علیہ وسلم کا کتنا ادب ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1083