Main Icon

باب : جماعت اور اس کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1077

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَا صَلَاةَ لَهٗ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ» . رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ

وعن ابن عباس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من سمع النداء فلم يجبه فلا صلاة له إلا من عذر» . رواه الدارقطني

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنہ سے وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں جو اذان سنے پھر اسے بلا عذر قبول نہ کرے تو اس کی نماز نہیں ۱؎(دارقطنی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس کی نماز قبول نہیں یا کامل نہیں،اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد کی حاضری وہاں تک کے لوگوں پر واجب ہے جہاں تک اذان کی آواز پہنچے،اس کے ماسواء جگہ سے مسجد میں آنا بھی بڑی اعلیٰ عبادت ہے، صحابہ کرام قبا ء شریف سے جو کہ مدینہ سے تین میل دور ہے مسجد نبوی میں نماز کے لیے حاضر ہوا کرتے تھے۔ خیال رہے کہ یہ احکام جب ہیں جب وہاں کا امام بدمذہب نہ ہو، مرزائیوں چکڑالویوں وغیرہم کی اذان کا یہ حکم نہیں ،دیکھو مسجد ضرار کا حکم کیا ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1077