Main Icon

باب : جماعت اور اس کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1056

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاة فَابْدَؤُوا بِالْعَشَاءِ وَلَا يَعْجَلْ حَتّٰى يَفْرُغَ مِنْهُ» وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُوضَعُ لَهٗ الطَّعَامُ وَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَلَا يَأْتِيهَا حَتّٰى يَفْرُغَ مِنْهُ وَإِنَّهٗ لِيَسْمَعَ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا وضع عشاء أحدكم وأقيمت الصلاة فابدؤوا بالعشاء ولا يعجل حتى يفرغ منه» وكان ابن عمر يوضع له الطعام وتقام الصلاة فلا يأتيها حتى يفرغ منه وإنه ليسمع قراءة الإمام(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کسی کا کھانا سامنے رکھا جائے اور نماز کی تکبیر کہی جائے تو کھانے سے ابتداء کرو اور کھانے سے فارغ ہونے تک جلدی نہ کرے ۱؎ اور حضرت ابن عمر کے سامنے کھانا رکھا جاتا اور نماز کی تکبیر ہوتی تو کھانے سے بغیر فارغ ہوئے نماز کو نہ آتے حالانکہ آپ امام کی قرأت سنتے ہوتے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حکم اس صورت میں ہے جب بھوک تیز ہو اور نماز کے وقت میں گنجائش ہو۔امام اعظم فرماتے ہیں کہ میرا کھانا نماز بن جائے یہ اچھا مگر میری نماز کھانا بن جائے یہ برا لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں فرمایا گیا کہ کھانے کے لیے نماز مت چھوڑو۔
۲
؎ یعنی مسجد سے بہت قریب ہوتے حتی کہ قرأت کی آواز کانوں میں پہنچتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1056