Main Icon

باب : جماعت اور اس کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1055

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهٗ أَذَّنَ بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ قَالَ أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ ذَاتُ بَرْدٍ وَمَطَرٍ يَقُولُ: «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر: أنه أذن بالصلاة في ليلة ذات برد وريح قال ألا صلوا في الرحال ثم قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأمر المؤذن إذا كانت ليلة ذات برد ومطر يقول: «ألا صلوا في الرحال»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ انہوں نے ایک ٹھنڈی اور ہوا والی رات میں نماز کی اذان کہی پھر فرمایا کہ گھروں میں نماز پڑھ لو پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب ٹھنڈی اور بارش والی رات ہوتی تو مؤذن کو حکم دیتے تھے کہ یوں کہے کہ نماز گھروں میں پڑھ لو ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ یہ لفظ اذان کے بعد کہلوایا جاتا تھا نہ کہ دوران اذان اور یہ امر اباحت کا ہے یعنی گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے بارش کی رات میں گھر میں نماز پڑھ سکتے ہو اجازت ہے مگر مسجد کی حاضری اور جماعت کی شرکت بہت ثواب کا باعث، اسی لیے سرکار صلی الله علیہ وسلم اور مؤذن اور جلیل القدر صحابہ خود تو مسجد میں آجاتے تھے اور اعلان یہ کراتے تھے۔ عزیمت پر عمل ہے اور رخصت کا اعلان۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1055