Main Icon

باب : جماعت اور اس کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1082

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بِلَالِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ حُظُوظَهُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِذَا اسْتَأْذَنَّكُمْ» . فَقَالَ بِلَالٌ:وَاللهِ لَنَمْنَعُهُنَّ. فَقَالَ لَهٗ عَبْدُ اللهِ : أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتقول أَنْتَ لَنَمنَعهُنَّ

وعن بلال بن عبد الله بن عمر عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا تمنعوا النساء حظوظهن من المساجد إذا استأذنكم» . فقال بلال:والله لنمنعهن. فقال له عبد الله : أقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وتقول أنت لنمنعهن

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بلال ابن عبد الله ابن عمر سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ عورتوں کو ان کے مسجدوں کے حصوں سے نہ روکو جب تم سے اجازت مانگیں ۲؎یوں بلال بولے کہ خدا کی قسم ہم تو روکیں گے۳؎تب ان سے حضرت عبد الله نے کہا میں تو کہتا ہوں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اور تم کہتے ہو کہ ہم ان کو روکیں گے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ عظیم الشان تابعی ہیں،مدنی ہیں،حضرت عبد الله ابن عمر کے بیٹے ہیں۔آپ سے صرف ایک حدیث مروی ہے۔
۲
؎یعنی انہیں بھی مسجدوں میں جا کر نماز پڑھنے دو تاکہ وہاں کا ثواب یہ بھی پائیں۔اس سے معلوم ہوا کہ عورت خاوند کی اجازت کے بغیر مسجد نہیں جاسکتی۔
۳
؎کیونکہ اب فتنوں کا زمانہ ہے ان کا گھروں سے نکلنا فساد سے خالی نہیں،یہ حکم حضور صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ کے لیے تھا۔یہی آپ کا مقصد تھا نہ کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے فرمان کی مخالفت کہ وہ تو کفر ہے۔غالبًا یہ گفتگو اس وقت کی ہے جب جناب عمر رضی الله عنہ نے عورتوں کو مسجد سے روک دیا تھا۱۲

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1082