Main Icon

باب : پاخانے کے آداب کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 375

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ وَفْدُ الْجنِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوْا: يَا رَسُولَ اللهِ اِنْهَ أُمَّتَكَ أَنْ يَسْتَنْجُوْا بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثَةٍ أَوْ حُمَمَةٍ فَإِنَّ اللهَ جَعَلَ لَنَا فِيْهَا رِزْقًا، فَنَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذٰلِكَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن ابن مسعود قال: لما قدم وفد الجن على النبي صلى الله عليه وسلم قالوا: يا رسول الله انه أمتك أن يستنجوا بعظم أو روثة أو حممة فإن الله جعل لنا فيها رزقا، فنهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ جب جنات کا وفدحضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا ۱؎توعرض کیایارسول اللہ اپنی امت کو منع فرمادیں کہ ہڈی گوبر یا کوئلہ سے استنجاء نہ کریں کیونکہ اس میں اللہ نے ہماری روزی کی ہے تب ہم کو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمادیا ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اپنے اوراپنی قوم کی طرف سے ایمان لانے کے لیے جنات کے ایمان کا واقعہ کئی بار ہوا ہے،ان میں سے ایک موقعہ پر حضرت ابن مسعود حضور کے ساتھ تھے اسی بار یہ حکم فرمایا گیا۔
۲
؎پہلے کہا جاچکاہے کہ کوئلہ اورہڈیاں جنات کی خوراک ہیں اورگوبر ان کے جانوروں کی،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ مؤمن جن گنداگوبر کیوں کھاتے ہیں اور نہ یہ اعتراض کہ جب وہ گندا گوبر کھالیتے ہیں تو انہیں انسان کی گندگی بھی کھالینی چاہیئےکیونکہ ان کے جانور کی غذا یہ گندگی نہیں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 375