Main Icon

باب : پاخانے کے آداب کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 359

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ قَالَ: "غُفْرَانَكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدَّارِمِيُّ.

وعن عائشة قالت: كان النبي -صلى الله عليه وسلم إذا خرج من الخلاء قال: "غفرانك". رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب پاخانے سے آتے تو فرماتے تیری بخشش(چاہیئے) ۱؎(ترمذی،و ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎ان تمام احادیث میں بیت الخلاءسے پاخانے پھرنے کی جگہ مراد ہے،جنگل میں ہو،یاچھت پر،یا گھر کے گوشہ میں،نہ کہ خاص کوٹھڑیاں کیونکہ اس زمانہ میں گھروں میں پاخانہ کی کوٹھڑیاں بنانے کا رواج نہ تھا۔اور پاخانہ سے فارغ ہوکرمغفرت مانگنے کی دو وجہ ہیں: ایک یہ کہ فراغت کا وقتاللہکے ذکر کے بغیر گزرا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سوائے اس حالت کے تمام حالات میں ذکراللہکرتے تھے خداوند اس کوتاہی کو معاف کر۔دوسرے یہ کہ خیریت سے پاخانہ ہوجانا خدا کی بڑی نعمت ہے جس کے شکریہ سے زبان قاصرہے خدایا اس قصور کو معاف کر۔خیال رہے کہ حضور کی استغفارہ امّت کی تعلیم کے لیے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 359