Main Icon

باب : پاخانے کے آداب کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 335

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: اِرْتَقَيْتُ فَوْقَ بَيْتِ حَفْصَةَ لِبَعْضِ حَاجَتِيْ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِيْ حَاجَتَهٗ مُسْتَدْبِرَ الْقبْلَةِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

عن عبد الله بن عمر قال: ارتقيت فوق بيت حفصة لبعض حاجتي فرأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم يقضي حاجته مستدبر القبلة مستقبل الشام. متفق عليه

حدیث ترجمہ

اس لیئے کہ حضرت عبداللہابن عمر سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت حفصہ کے گھر کی چھت پر کسی کام کے لیئے چڑھا تو میں نے رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قبلہ کو پیٹھ شام کی طرف منہ کئے قضائے حاجت فرما رہے ہیں ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱؎اماممحی السنۃکے اس فرمان میں چند طرح گفتگو ہے:ایک یہ کہ ممانعت کی حدیث میں جنگل یا آبادی کی قید نہیں،مطلق کو اپنے اطلاق پر رکھنا ضروری ہے۔حضرت ابن عمررضی اللہ عنھما کی یہ روایت حضور کا ایک فعل شریف بیان کررہی ہے اور جب فعل وقول میں،نیز ممانعت اور اباحت میں تعارض معلوم ہو توحدیث قولی کو فعلی پر اور ممانعت کو اباحت پر ترجیح ہوتی ہے،کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض افعال کریمہ آپ کی خصوصیات سے ہوتے ہیں۔دوسرے یہ کہ حضور کا یہ فعل شریف ممانعت سے پہلے کا ہوگا،لہذا یہ منسوخ ہے اور ممانعت کی حدیث ناسخ۔تیسرے یہ کہ حضرت عبداللہابن عمر کو دیکھنے میں غلطی لگی حضور تھوڑا سا قبلہ سے ہٹے ہوں گے جسے جلدی میں ابن عمر نہ دیکھ سکے،کیونکہ ایسے موقعہ پر انسان جلد ہی آنکھیں بندکرکے لوٹ جاتا ہےتحقیق اورغور سے دیکھتا نہیں۔چوتھے یہ کہ صحابۂ کرام کا بھی یہی مذہب تھا کہ آبادی میں بھی اس رخ کو پیشاب پاخانہ نہ کریں۔چنانچہ مسلم،ابوداؤد،احمد، بخاری، نسائی، ابن ماجہ، دارمی اور ترمذی نے حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت کی کہ جب ہم شام میں پہنچے تو ہم نے وہاں کے پاخانوں کو قبلہ رخ بنا پایا تو ہم استغفار پڑھتے تھے اور ان میں مڑکر بیٹھتے تھے۔ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث احسن اور اصح ہے۔ پانچویں یہ کہ قبلہ کے آداب آبادی اور جنگل میں یکساں ہیں۔قبلہ کی طرف تھوکنایا پاؤں پھیلانا جنگل میں بھی حرام ہے اور بستی میں بھی،تو چاہیئے کہ پیشاب پاخانہ کا حکم بھی دونوں جگہ یکساں ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 335