Main Icon

باب : پاخانے کے آداب کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 363

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبُوْلُ قَائِمًا فَقَالَ: "يَا عُمَرُ لَا تَبُلْ قَائِمًا" فَمَا بُلْتُ قَائِمًا بَعْدُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. قَالَ الشَّيْخُ الإمَامُ مُحْيِي السُّنَّةِ رَحِمَهُ اللّٰهُ : قَدْ صَحَّ.

وعن عمر قال: رآني النبي صلى الله عليه وسلم وأنا أبول قائما فقال: "يا عمر لا تبل قائما" فما بلت قائما بعد. رواه الترمذي وابن ماجه. قال الشيخ الإمام محيي السنة رحمه الله : قد صح.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ میں کھڑے ہوئے پیشاب کررہا تھا تو فرمایا کہ اے عمر کھڑے ہو کر پیشاب نہ کیا کرو پھر میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہ کیا ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس سےمعلوم ہوا کہ کھڑے ہوکر پیشاب کرنا مکروہ اورطریقۂ کفار ہے،جاہلیت کے لوگ گدھے بیل کی طرح کھڑے ہو کر پیشاب کیا کرتے تھے۔اگر اس میں بے پردگی ہویا کپڑے پرچھینٹیں پڑیں یامشابہت کفار(فیشن)کے لیے ہو تو مکروہ تحریمی ہے ورنہ مکروہ تنزیہی،مجبوری کی حالت میں بلاکراہت جائز۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 363