Main Icon

باب : پاخانے کے آداب کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 368

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: بَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَهٗ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ: "مَا هٰذَا يَا عُمَرُ؟ " قَالَ: مَاءٌ تَتَوَضَّأُ بِهٖ. قَالَ: "مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ، وَلَوْ فَعَلْتُ لَكَانَتْ سُنَّةً". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن عائشة قالت: بال رسول الله -صلى الله عليه وسلم - فقام عمر خلفه بكوز من ماء، فقال: "ما هذا يا عمر؟ " قال: ماء تتوضأ به. قال: "ما أمرت كلما بلت أن أتوضأ، ولو فعلت لكانت سنة". رواه أبو داود وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں پیشاب کیا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے تو حضرت عمر آپ کے پیچھے پانی کا کوزہ لے کر کھڑے ہوگئے فرمایا اے عمر!یہ کیا؟عرض کیا پانی ہے جس سے آپ وضو کریں فرمایا مجھے یہ حکم نہیں کہ جب کبھی پیشاب کروں تو وضو کروں اگر یہ کروں تو سنت ہوجائے ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سنت مؤکدہ،ورنہ باوضو رہنا سنت مستحبہ تو ہے۔اس سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ صحابہ کرام حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت کے لیے حکم کا انتظار نہیں کرتے تھے بلکہ موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔دوسرے یہ کہ جو کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کریں وہ سنت مؤکدہ ہے۔اور جس کا حکم بھی کریں وہ واجب۔تیسرے یہ کہ بارہا سرکار نے امت پر آسانی کرنے کے لئے مستحب کاموں کو چھوڑ دیا ہے اور یہ چھوڑنا بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے لیے باعث ثواب ہےکیونکہ تبلیغ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 368