Main Icon

باب : پاخانے کے آداب کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 352

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ أَكَلَ فَمَا تخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ، وَمَا لَاكَ بِلِسَانِهٖ فَلْيَبْتَلِعْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا أَنْ يَجْمَعَ كَثِيْبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْيَسْتَدْبِرْهُ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ والدَّارِمِيُّ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم : "من اكتحل فليوتر، من فعل فقد أحسن، ومن لا فلا حرج، ومن استجمر فليوتر، من فعل فقد أحسن، ومن لا فلا حرج، ومن أكل فما تخلل فليلفظ، وما لاك بلسانه فليبتلع، من فعل فقد أحسن، ومن لا فلا حرج، ومن أتى الغائط فليستتر فإن لم يجد إلا أن يجمع كثيبا من رمل فليستدبره، فإن الشيطان يلعب بمقاعد بني آدم، من فعل فقد أحسن، ومن لا فلا حرج". رواه أبو داود وابن ماجه والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو سرمہ لگائے وہ طاق بار لگائے ۱؎کرے تو اچھا ہے نہ کرے تو گناہ نہیں ۲؎اور جو استنجا کرے تو طاق سے کرے جو کرے تو اچھا اور نہ کرے تو گناہ نہیں ۳؎اور جو کھائے تو جو خلال سے نکالے وہ تھوک دے اور جوزبان سے نکالے وہ نگل لے۴؎جو کرے تو اچھا ہے جو نہ کرے تو گناہ نہیں ۵؎اور جو پاخانہ جائے تو آڑ کرے اگر آڑ نہ پائے یا بجز اس کے کہ ریت کا ڈھیر جمع کرے تو اس ڈھیر کی طرف پیٹھ کرے ۶؎کیونکہ شیطان لوگوں کے پاخانہ کے مقام سے کھیلتا ہے جو یہ کرے تو اچھا ہےجو نہ کرے تو گناہ نہیں ۷؎(أبوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎ہر آنکھ میں تین سلائیاں اس طرح کہ پہلے داہنی آنکھ میں تین۔بعض لوگ یوں کرتے ہیں کہ پہلے دہانی میں دو،پھربائیں میں تین، پھر دائیں میں ایک،تاکہ داہنی پر ابتداءاورانتہاء ہو،اس میں بھی حرج نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سوتے وقت تین تین سلائیاں لگایا کرتے تھے،اس پر پابندی کرنے والاان شاءاللّٰهاندھا نہ ہوگا۔
۲
؎یعنی یہ امروجوب کے لیے نہیں بلکہ استحباب کے لیے ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مطلق امرو جوب کے لیے ہوتا ہے ورنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو امر کے بعد اس فرمان کی ضرورت نہ ہوتی۔
۳
؎یعنی بڑے استنجے کے لیے تین،یاپانچ،یاسات حسب ضرورت ڈھیلے لے۔اگر چار یا چھ لئے جب بھی مضائقہ نہیں کیونکہ مقصود صفائی ہے۔خیال رہے کہ سرمے کی تین ہی سلائیاں لگائے پانچ یاسات نہیں کہ یہی سنت ہے۔
۴
؎کیونکہ خلال سے نکالے ہوئے میں خون سے مخلوط ہونے کا احتمال ہے،لہذا احتیاطًا نہ کھائے اور زبان سے نکالے ہوئے میں یہ احتمال نہیں وہاں اس احتیاط کی ضرورت نہیں۔
۵
؎یہ اس صورت میں ہے کہ خون سے مخلوط ہونے کا صرف احتما ل ہو یقین نہ ہو،اگر یقین ہوتو نگلنا حرام ہےکیونکہ بہتا خون حرام بھی ہے اورنجس بھی،خواہ دوسرے کا۔اس سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ بہتا خون جسم میں داخل کرنا ناجائز ہے جیسے پیشاب پاخانہ داخل کرنا کہ یہ سب نجس ہیں۔
۶
؎لوگوں کے سامنے تو آڑ کرنا فرض ہے،تنہائی میں آڑ مستحب،کیونکہ یہ حیا کا ایک شعبہ ہے اسی لیے تنہائی میں بھی ننگا رہنا ممنوع ہے۔ڈھیر کی طرف پیٹھ کرنااس واسطے ہے کہ آگے تو کپڑے وغیرہ سے بھی آڑ کی جاسکتی ہے ورنہ دونوں طرفیں ستر کے لائق ہیں۔
۷
؎یعنی تنہائی میں یہ پردہ مستحب ہے واجب نہیں۔شیطان کے کھیلنے سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو ننگا دیکھ کر ہنستا ہے،وسوسے ڈالتا ہے وغیرہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 352