Main Icon

باب : پاخانے کے آداب کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 353

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الله بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهٖ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ، أَوْ يَتَوَضَّأُ فِيهِ، فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ إِلَّا أَنَّهُمَا لَمْ يَذْكُرَا: "ثمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ أَوْ يَتَوَضَّأُ فِيهِ".

وعن عبد الله بن مغفل قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "لا يبولن أحدكم في مستحمه، ثم يغتسل فيه، أو يتوضأ فيه، فإن عامة الوسواس منه". رواه أبو داود والترمذي والنسائي إلا أنهما لم يذكرا: "ثم يغتسل فيه أو يتوضأ فيه".

حدیث ترجمہ

روایت ہے عبداللہابن مغفل سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی غسل خانہ میں ہرگز پیشاب نہ کرے پھر اس میں غسل یا وضو کرے گا۲؎کیونکہ عام وسوسے اسی سے ہوتے ہیں ۳؎اسے ابوداؤد،ترمذی اورنسائی نے روایت کیا مگر ان دونوں نے "ثُمَّ یَغْتَسِلُ" کا ذکر نہ کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،قبیلہ مزینہ سے ہیں،بیعت الرضوان میں شریک ہوئے،مدینہ منورہ قیام رہا،شہرتَسْتُرفتح ہونے پر اول آپ ہی وہاں داخل ہوئے،عہد فاروقی میں بصرہ میں لوگوں کو علم دین سکھانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا،وہیں ۵۹ھمیں وفات ہوئی۔
۲
؎مستحمہکے معنی ہیں گرم پانی استعمال کرنے کی جگہ۔حمیمگرم پانی،اسی سے حمام بنا۔اگرغسل خانہ کی زمین پختہ ہواوراس میں پانی خارج ہونے کی نالی بھی ہو تو وہاں پیشاب کرنے میں حرج نہیں،اگرچہ بہتر ہے کہ نہ کرے۔لیکن اگر زمین کچی ہو اور پانی نکلنے کا راستہ بھی نہ ہو تو پیشاب کرنا سخت برا ہے کہ زمین نجس ہوجائے گی،اورغسل یاوضو میں گندا پانی جسم پر پڑے گا۔یہاں دوسری صورت ہی مراد ہے اسی لیے تاکیدی ممانعت فرمائی گئی۔
۳
؎یعنی ا س سے وسوسوں اور وہم کی بیماری پیدا ہوتی ہے،جیسا کہ تجربہ ہے یا گندگی چھینٹیں پڑنے کا وسوسہ رہے گا۔پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 353