Main Icon

باب : پاخانے کے آداب کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 349

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُم إِلَى الْغائِطِ فَلْيَذْهَبْ مَعَهٗ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ يَسْتَطِيْبُ بِهِنَّ،

وعنها قالت: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم : "إذا ذهب أحدكم إلى الغائط فليذهب معه بثلاثة أحجار يستطيب بهن،

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو اپنے ساتھ تین پتھر (ڈھیلے)لے جائے ۱؎جن سے استنجاء کرے یہ اسے کافی ہوں گے۔ (احمد،ابوداؤد،نسائی،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎تین پتھروں کا حکم استحبابی ہے،کہ عام حالات میں یہ کافی ہوتے ہیں لیکن دست وغیرہ کے موقع پر پانچ یا سات کی ضرورت ہوتی ہے،مقصود صفائی ہے جتنے سے حاصل ہو۔ہاں سنت یہ ہے کہ طاق ہوں،پتھر اور ڈھیلے ایسے چاہئیں جو نجاست چوس سکیں، دیکھا گیا ہے کہ ریل کے پتھر کافی نہیں ہوتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 349