Main Icon

باب : پاخانے کے آداب کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 367

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "جَاءَنِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْتَضِحْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ- يَقُولُ: الْحَسَنُ بْنُ عَليٍّ الْهَاشِمِيُّ الرَّاوِي مُنْكَرُ الحَدِيثِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم : "جاءني جبريل فقال: يا محمد إذا توضأت فانتضح". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب، وسمعت محمدا يعني البخاري- يقول: الحسن بن علي الهاشمي الراوي منكر الحديث.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے پاس حضرت جبریل آئے عرض کیا اے محمد ۱؎(صلی اللہ علیہ وسلم)جب آپ وضو کریں تو پانی چھڑک لیا کریں۔ترمذی نے روایت کیا اور کہا کہ یہ حدیث غریب ہے میں نے محمد یعنی امام بخاری کو کہتے سنا کہ حسن بن علی ہاشمی راوی منکرالحدیث ہے ۲؎

شرح حدیث

۱؎شاید یہ حدیث اس آیت کے نزول سے پہلے کی ہے"لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ بَیۡنَکُمْ کَدُعَآءِ"الایہ۔اس آیت کے نزول کے بعد فقط نام شریف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنا حرام ہے،جب ہمارا رب ہی اپنے محبوب کونبی،رسول،مزمل،مدثرکے القاب سے پکارے تو مخلوق صرف نام سے کیسے پکار سکتی ہے۔اور ہوسکتا ہے کہ یہ الفاظ شریف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے ہوں انہوں نے ادب سے پکارا ہو گا،حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے انکسارًا اس طرح نقل فرمایا،جیسے کہا جاتا ہے کہ مجھ سے فلاں نے کہا تو اس وقت آنا،حالانکہ انہوں نے کہا ہوتا ہے(آپ تشریف لائیے گا)۔
۲
؎یعنی اس اسناد میں کوئی راوی حسن ابن علی بھی ہے جو خود ثقہ نہیں ہے اور اس روایت میں وہ اکیلا ہے مگرمضائقہ نہیں کیونکہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث معتبر ہے۔خیال رہے کہ یہ حسن ابن علی کوئی غیر معتبرشخص ہے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ مراد نہیں جیسا بعض لوگوں نےسمجھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 367