Main Icon

باب : پاخانے کے آداب کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 357

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَن زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ هٰذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ، فَإِذَا أَتٰی أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن زيد بن أرقم قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "إن هذه الحشوش محتضرة، فإذا أتی أحدكم الخلاء فليقل: أعوذ بالله من الخبث والخبائث". رواه أبو داود وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے زید بن ارقم سے فرماتے ہیں ۱؎فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ پاخانے جنات کے حاضر رہنے کی جگہ ہیں ۲؎تو جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو کہہ لے میں گندے جن اور جناتنی سےاللہکی پناہ لیتا ہوں۳؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور صحابی ہیں،آپ کی کنیت ابو عمرو ہے،انصاری ہیں،خزرجی ہیں،کوفہ میں قیام رہا،۸۵ سال عمر پائی، ۷۸ھمیں کوفہ میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔
۲
؎کیونکہ یہاں پلیدیاں پڑتی ہیں،اللہکا ذکر ہوتا نہیں،اس لئے وہاں شیطان لوگوں کی تاک میں بیٹھتے ہیں،اسی لئے حکم ہے کہ بلاضرورت پاخانہ میں نہ جاؤ اوربلاوجہ وہاں نہ بیٹھو۔خیال رہے کہ گرجے،مندر،شراب خانے،سینما،جہاں جواری جوا کھیلیں یہ تمام جگہ شیطانوں کے ٹھکانے ہیں۔سرکار نے فرمایا ہے کہ بازاروں میں شیطان رہتا ہے کہ وہاں جھوٹ،دھوکے بہت دیئےجاتے ہیں۔
۳
؎مگر یہ کلمات پاخانہ میں جانے سے پہلے کہے،پاخانہ کے اندراللہکا ذکر منع ہے،کیونکہ وہاں گندگیاں ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 357