Main Icon

باب : پاخانے کے آداب کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 343

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ نَزَعَ خَاتَمَهٗ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا الحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ. وَفِيَ رِوَايَتِهٖ: وَضَعَ بَدَلَ نَزَعَ.

عن أنس قال: كان النبي -صلى الله عليه وسلم - إذا دخل الخلاء نزع خاتمه. رواه أبو داود والنسائي والترمذي وقال: هذا الحديث حسن صحيح غريب.
وقال أبو داود: هذا حديث منكر. وفي روايته: وضع بدل نزع.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی اتار دیتے ۱؎اسے ابوداؤد، نسائی اور ترمذی نے روایت کیا۔اور ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔اور ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ حدیث منکر ہے ۲؎اور ان کی روایت میں اتارنے کی بجائے رکھنا ہے۔

شرح حدیث

۱؎یعنی حضور انگوٹھی پہنے پاخانہ میں نہ جاتے بلکہ یا تو اتار کر باہر ہی رکھ جاتے یا جیب میں ڈال لیتے تھے،کیونکہ اس میں لکھا تھامحمد رسول اللّٰه۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جس چیز میں اللہ تعالٰی یا انبیائے کرام کا نام لکھا ہواس کا ادب کرے،اسے گندگی میں نہ ڈالے،پاخانہ میں نہ لے جائے،جیسے تعویذ وغیرہ جس میں اسمائے الہیہ یا آیات قرآنیہ ہوں۔دوسرے یہ کہ اگر یہ چیزیں غلاف میں ہوں تو پھر لے جانا جائز ہے،اسی لئے تعویذ کا موم جامہ کرلیتے ہیں اور مقطعات قرآنیہ کی انگوٹھی پر شیشہ یا کانچ لگا لیتے ہیں۔(مرقاۃ وغیرہ)
۲
؎کیونکہ اس کی اسناد میں ابو عبداللہھمام ابن یحیی ابن دینار ازدی ہیں،مگر ہمام کی مسلم و بخاری نے توثیق و تعریف کی اسی لیے ترمذی نے اسے حسن و صحیح فرمایا۔غرض کہ ہمام میں اختلاف ہے،بعض نے ان پر جرح کی،بعض نے توثیق تعدیل،اور جب جرح و تعدیل میں اختلاف ہو تو تعدیل کا اعتبار ہوتا ہے،لہذا یہ حدیث صحیح قابل سند ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 343