Main Icon

باب : پاخانے کے آداب کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 340

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الإْنَاءِ، وَإِذَا أَتَى الْخَلَاءَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهٗ بِيَمِينِهٖ وَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهٖ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

وعن أبي قتادة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "إذا شرب أحدكم فلا يتنفس في الإناء، وإذا أتى الخلاء فلا يمس ذكره بيمينه ولا يتمسح بيمينه". متفق عليه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو قتادہ سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی پیے تو برتن میں سانس نہ لے۲؎اور جب پاخانے جائے تو پیشاب گاہ داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے۳؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام حارث ا بن ربعی یا ابن نعمان ہے،انصاری ظفری ہیں،بیعت عقبہ اورتمام غزوات میں شامل ہوئے،بدریااحد میں آپ کی آنکھ نکل پڑی تھی،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جگہ ٹکا کر اپنا لعاب شریف لگادیاتو دوسری آنکھ سے زیادہ روشن ہوگئی،ابو سعید خدری کے اخیافی یعنی ماں شریکےبھائی ہیں،ستر سال عمر پائی ۵۴ھمیں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔
۲
؎بلکہ برتن منہ سے علیحدہ کرکے سانس لے تاکہ تھوک یا رینٹ پانی میں نہ پڑے،نیز سانس میں اندر کی گرمی اور زہریلا مادہ ہوتا ہے جو پانی میں مل کر بیماری پیدا کرتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ چائے وغیرہ گرم چیز میں پھونکیں مارنا منع ہے۔
۳
؎کیونکہ داہنا ہاتھ کھانے پینے اور تسبیح وتہلیل شمار کرنے کے لیے ہے،لہذا اسے گندے کام میں استعمال نہ کرے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ اسی طرح زبان و آنکھ و کان کو گناہوں میں استعمال نہ کرے کہ یہ چیزیںاللہکا ذکرکرنے قرآن دیکھنے و سننے کے لیے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 340