Main Icon

باب : پاخانے کے آداب کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 339

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "اتَّقُوا اللَّاعِنَيْنِ" قَالُوْا: وَمَا اللَّاعِنَانِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ . قَالَ: "الَّذِي يَتَخَلّٰى فِي طَرِيقِ النَّاسِ أَو فِي ظِلِّهِمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "اتقوا اللاعنين" قالوا: وما اللاعنان يا رسول الله؟ . قال: "الذي يتخلى في طريق الناس أو في ظلهم". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے دو۲ لعنتی کاموں سے بچو ۱؎صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کیا یارسولاللہلعنتی کام کون سے ہیں، فرمایا وہ جو لوگوں کی راہ یا سایہ کی جگہ پر پاخانہ کرے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جن دو کاموں کی وجہ سے لوگ کرنے والے کو طعن لعن کرتے ہیں ان سے پرہیز کرو۔
۲
؎یعنی راستہ عام طور پر جہاں مسلمانوں کا گزر گاہ ہو وہاں پاخانہ نہ کرو،یوں ہی جس سایہ میں لوگ دھوپ کیوقت عمومًا بیٹھتے لیٹے ہوں وہاں نہ کرو کہ اس سے رب تعالٰی بھی ناراض ہوتا ہے،لوگ بھی برا کہتے ہیں۔لہذا یہ حدیث اس روایت کے خلاف نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نخلستان میں حاجت قضا فرمائی کیونکہ وہ جگہ لوگوں کے آرام کی نہ تھی۔مرقاۃ نے فرمایا کہ پانی کے گھاٹ اورگزر گاہ عوام پر پاخانہ نہ کرے اور کسی کی ملک زمین میں اس کی بغیر اجازت نہ کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 339