Main Icon

باب : پاخانے کے آداب کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 360

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْخَلَاءَ أَتَيْتُهٗ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ أَوْ رَكْوَةٍ فَاسْتَنْجٰى، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهٗ عَلَى الأَرْضِ، ثُمَّ أَتَيْتُهٗ بِإِنَاءٍ آخَرَ فَتَوَضَّأَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَ الدَّارمِيُّ وَالنَّسَائِيُّ مَعْنَاهُ.

وعن أبي هريرة قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أتى الخلاء أتيته بماء في تور أو ركوة فاستنجى، ثم مسح يده على الأرض، ثم أتيته بإناء آخر فتوضأ. رواه أبو داود، و الدارمي والنسائي معناه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ جاتے تو میں آپ کی خدمت میں چھاگل یاپیالہ میں پانی لاتا ۱؎آپ استنجاء کرتے پھر ہاتھ شریف زمین پر رگڑتے ۲؎پھر میں دوسرا برتن لاتا تو وضو فرماتے ۳؎اسے ابوداؤد اور دارمی نے روایت کیا،نسائی نےبمعنی۔

شرح حدیث

۱∞؎اس سےمعلوم ہوا کہ نبی امتی سے،پیرمرید سے،استاد شاگرد سے،باپ اپنے بیٹے سے خدمت لے سکتا ہے۔اور ان لوگوں کا رضاء کارانہ طور پر بزرگوں کی خدمت کرنا سعادت مندی ہے۔
۲
؎تاکہ مٹی سے ہاتھ مانجھ کر بو دفع کردی جائے لہذا استنجے کے بعدصابون وغیرہ سے ہاتھ دھونا سنت سے ثابت ہے۔خیال رہے کہ حضور کا یہ فعل شریف بھی امت کے لیے ہے ورنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات میں بدبو نہ تھی حتی کہ ایک بی بی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیشاب دھوکہ میں پی لیا جیسا کہ اس کے موقع پر ذکر کیا جائے گا۔ان شاءاللّٰه !۳؎اکثر نہ کہ ہمیشہ،جیساکہ دوسری روایات سے ثابت ہے۔چونکہ برتن چھوٹا تھا استنجے کے بعد وضو کے لائق پانی نہیں بچتا تھا،اس لیے دوسرے برتن سے وضو فرماتے تھے ورنہ استنجے کے بچے ہوئے پانی سے وضو جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 360