Main Icon

باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 514

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَتِ الْكِلَابُ تُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجدِ فِيْ زَمَانِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَكُونُوْا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذٰلِكَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن ابن عمر قال: كانت الكلاب تقبل وتدبر في المسجد في زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلم يكونوا يرشون شيئا من ذلك. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کتے مسجد میں آتے جاتے تھے لیکن صحابہ اس کی وجہ سے مسجد نہ دھوتے تھے ∞۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱؎اس حدیث کی شرح پہلے گزر چکی۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ کتے کا جسم سوکھا ہو یا گیلا نجس نہیں اور اس کے مسجد میں آجانے کی وجہ سے زمین گندی نہ ہوگی،ہاں کتے کا لعاب ناپاک ہے یا کتانجاست میں بھیگا ہو تب اس کا جسم ناپاک۔خیال رہے کہ اس حدیث میں اسلام کے ابتدائی حالات کا ذکر ہے۔جب مسجد نبوی میں نہ دروازہ تھا نہ کوئی آڑ اور نہ مسجد کےاحترا م کے اتنے سخت احکام تھے،پھر بعد میں مسجد میں دروازے بھی لگائے گئے،کتا تو کیا وہاں نہ سمجھ بچوں کا لانا،نجس کپڑے پہن کر آنا حتّٰی کہ جس کے بدن سے بو آرہی ہو،یاجس نے کچا پیاز اورلہسن کھایا ہو،یا منہ میں بدبو ہو ان کا داخلہ تک منع کردیاگیا،جیساکہ "باب المساجد" میں اس قسم کی بہت سی احادیث آئیں گی۔لہذا اس حدیث کو دیکھ کر اب مسجدوں کو بے آڑ رکھنا یا وہاں ہر گندے اور ناپاک کو آنے دینا درست نہیں،ہاں حکم یہی ہے کہ اگر اتفاقًا مسجد میں کتا گھس جائے جس کے جسم پر ترناپاکی نہ ہو تو اسکو دھونا واجب نہیں ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 514