Main Icon

باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 496

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَبِرِوَايَةِ عَلْقَمَةَ وَالأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهٗ وَفِيْهِ: ثمَّ يُصَلِّيْ فِيْهِ.

وبرواية علقمة والأسود عن عائشة نحوه وفيه: ثم يصلي فيه.

حدیث ترجمہ

اور علقمہ اسود کی ایک روایت میں حضرت عائشہ سے اسی طرح ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ اسی میں نماز پڑھ لیتے٣؎

شرح حدیث

٣؎اس حدیث سے امام شافعی فرماتے ہیں کہ منی پاک ہے کیونکہ یہ انسان کا مادۂ پیدائش ہے،کیسے ہوسکتاہے کہ ایسی پاک چیز ناپاک سے پیدا ہو،ہمارے امام صاحب کے نزدیک منی نجس ہے،ورنہ اس کے نکلنے سے غسل واجب نہ ہوتا،ہاں آسانی کے لئے خشک منی کا مل کرجھاڑدینا کافی ہے،جیسے کہ کھلیان کا گندم جس پر بیل پیشاب پاخانہ کرتے ہیں تقسیم سے پاک ہوجاتاہے،اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ گوبراور پیشاب پاک ہو۔یہ بھی ضعیف ہے کہ پاک انسان ناپاک منی سے کیسے بنا،ماں کا دودھ جو انسان کی پہلی غذا ہے حیض کے خون سے بنتا ہے،بلکہ خود منی خون سے بنی ہے تو کیا خون کو بھی پاک کہو گے۔یہ تو خدا کی شان ہے کہ ناپاک کو پاک سے اورپاک کو ناپاک سے بناتا ہے۔چنانچہ دارقطنی نے حضرت عمار ابن یاسر سے روایت کی کہ حضور نے فرمایا اے عمارپانچ چیزوں سے کپڑا دھوؤ: پیشاب،پاخانہ،قے،خون،اورمنی۔وہ جو حدیث ابن عباس مشہور ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منی تھوک و رینٹ کی طرح ہے جس کا کپڑا یاگھاس سے پونچھ دینا کافی ہے۔اولًا تو وہ حدیث صحیح نہیں اگرصحیح مان لی جائے تو ان احادیث سے مرجوح یا منسوخ ہے کیونکہ اگر اباحت و حرمت میں تعارض ہو تو حرمت کو ترجیح ہوتی ہے۔(فتح القدیر،مرقاۃ واشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 496