Main Icon

باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 512

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِيْ عبْدِ الأَشْهَلِ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ إِنَّ لَنَا طَرِيْقًا إِلَى الْمَسْجِد مُنْتِنَةً، فَكَيْفَ نَفْعَلُ إِذا مُطِرْنَا؟ قَالَتْ: فَقَالَ: "أَلَيْسَ بعْدَهَا طَرِيْقٌ هِيَ أَطْيَبُ مِنْهَا؟ "، قُلْتُ: بلٰى، قَالَ: "فَهٰذِهٖ، بِهٰذِهٖ، ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن امرأة من بني عبد الأشهل قالت: قلت: يا رسول الله إن لنا طريقا إلى المسجد منتنة، فكيف نفعل إذا مطرنا؟ قالت: فقال: "أليس بعدها طريق هي أطيب منها؟ "، قلت: بلى، قال: "فهذه، بهذه، ". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے بنی عبدالاشہل کی ایک بی بی صاحبہ سے ۱؎فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول الله ہمارا مسجد کا راستہ غلیظ ہے جب بارش ہو تو ہم کیا کریں۲؎فرمایا کیا اس کے بعد اس سے اچھا راستہ نہیں ہے میں بولی ہاں فرمایا تو وہ اس کے بدلے میں ہے ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱؎ان بی بی صاحبہ کا نام نہ معلوم ہوسکا نہ حالات زندگی مگر چونکہ صحابیہ ہیں لہذا یہ بے علمی مضر نہیں کیونکہ تمام صحابہ عادل ہیں،رب فرماتا ہے :"وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی
۲
؎یعنی خشک زمانہ میں وہاں گزرنا بھی آسان اور اس کی گندگی جوتوں کو لگتی بھی نہیں مگر بارش میں گندگیاں جوتوں کو لگ جاتی ہیں اس صورت میں جوتے ناپاک ہوں گے یا پاک۔
۳
؎اس کا مطلب پہلے بیان ہوچکا کہ اگر جسم والی تر نجاستیں جوتے یا چمڑے کے موزے کو لگ جائیں تو وہ خشک مٹی سے رگڑ کر پاک ہوجاتے ہیں وہی یہاں مراد ہے۔ پیشاب،پتلی نجاستیں بغیر دھلے پاک نہیں ہوسکتیں،نیز کرتے کے دامن یا پائجامہ بغیر دھلے پاک نہ ہوں گے۔ لہذا یہ حدیث واضح ہے فقہی مسئلہ اس کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 512