Main Icon

باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 494

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَنِيِّ يُصِيْبُ الثَّوْبَ، فَقَالَتْ: كُنْتُ أَغْسِلُهٗ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَأَثَرُ الْغَسْلِ فِيْ ثَوْبِهٖ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

وعن سليمان بن يسار قال: سألت عائشة عن المني يصيب الثوب، فقالت: كنت أغسله من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم-فيخرج إلى الصلاة وأثر الغسل في ثوبه. متفق عليه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلیمان ابن یسار سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے منی کے بارے میں پوچھا جو کپڑے کو لگ جائے فرمانے لگیں کہ میں اسے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے دھوتی تھی پس آپ نماز کو تشریف لے جاتے تھے حالانکہ دھونے کا اثر آپ کے کپڑے میں ہوتا۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ ام المؤمنین حضرت میمونہ کے آزاد کردہ غلام ہیں،فقیہ،تابعی ہیں،عطاء ابن یسار کے بھائی ہیں،۷۳ سال کی عمر پائی ۱۰۷ھمیں وفات پائی۔
۲
؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ منی نجس ہے،رینٹ یا تھوک کی طرح پاک نہیں،جیسا کہ شوافع کا خیال ہے ورنہ دھونے کی ضرورت نہ پڑتی۔دوسرے یہ کہ اپنی بیوی سے منی کا کپڑا دھلوانا جائز ہے کیونکہ یہ بھی ایک قسم کی خدمت ہے۔تیسرے یہ کہ نجس کپڑا دھونے کے بعد ہی پاک ہوجاتا ہے۔چوتھے یہ کہ گیلے کپڑے میں نماز جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 494