Main Icon

باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 510

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَيْمُوْنَةَ قَالَتْ: مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ، يَجُرُّوْنَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا" قَالُوْا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن ميمونة قالت: مر على النبي صلى الله عليه وسلم- رجال من قريش، يجرون شاة لهم مثل الحمار، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم:"لو أخذتم إهابها" قالوا: إنها ميتة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يطهرها الماء والقرظ". رواه أحمد وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت میمونہ سے فرماتی ہیں کہ قریش کے کچھ لوگ حضور پر گزرے جو اپنی مری بکری کو گدھے کی طرح کھینچ رہے تھے ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اس کی کھال لے لی ہوتی وہ بولے کہ یہ تو مردار ہے ۱؎تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور ببول کے پتے پاک کردیتے ہیں ۲؎(احمدوابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎انکا یہ خیال تھا کہ قرآن پاک کا فرمان "حُرِّمَتْ عَلَیۡکُمُ الْمَیۡتَۃُ"مردارکی ہرچیزکو شامل ہے کہ نہ اس کا کھاناجائزاور نہ اس کی کسی چیز کا استعمال کسی طرح حلال،اس خیال پر وہ اسے پھینکنے کے لئے جارہے تھے۔معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کی سمجھ ناممکن ہے۔
۲
؎خیال رہے کہ کھال کی پاکی کے لئے دھونا فرض نہیں لہذایہاں پانی سے مراد کچی دباغت ہے یعنی دھوکر سکھا لینا،اورببول کی پتے اور چھال سے مرادپکی دباغت ہے،اور ہوسکتا ہے کہ پانی سے مراد دھونا ہی ہو،اور حکم استحبابی ہویعنی کھال دھوکرپکانابہت بہترہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 510