Main Icon

باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 504

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ لَهَا امْرَأَةٌ: إِنِّيْ امْرَأةٌ أُطِيْلُ ذَيْلِيْ، وَأَمْشِيْ فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يُطَهِّرُهٗ مَا بَعْدَهٗ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَا: الْمَرْأَةُ أُمُّ وَلَدٍ لإِبْرَاهِيْمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ.

وعن أم سلمة قالت لها امرأة: إني امرأة أطيل ذيلي، وأمشي في المكان القذر، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يطهره ما بعده". رواه مالك وأحمد والترمذي وأبو داود والدارمي وقالا: المرأة أم ولد لإبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ ان سے کسی عورت نے کہا میرا دامن لمبا ہے اور میں گندی جگہ میں چلتی ہوں آپ بولیں کہ فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اسے بعد والی زمین پاک کردے گی ۱؎(مالک،احمد،ترمذی،ابوداؤد،دارمی)ان دونوں نے کہا کہ وہ عورت ابراہیم ابن عبدالرحمان بن عوف کی ام ولد تھیں ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث محدثین کے نزدیک صحیح نہیں کیونکہ ابراہیم کی ام ولد مجہول ہیں۔علماءامت کا اس پر اجماع ہے کہ ناپاک کپڑا بغیر دھوئے پاک نہیں ہوسکتا۔چونکہ یہ حدیث صحت کو پہنچتی ہی نہیں،نیز اجماع امت بھی اس کے خلاف ہے۔لہذا احادیث میں تاویل کی ضرورت نہیں۔اور ہوسکتا ہے کہ اس حدیث میں سوکھی ناپاکی مراد ہو یعنی اگر کپڑے سے سوکھا گوبر وغیرہ لگ گیا تو آگے جاکرجدا ہوجائے گا کپڑا پاک ہوجائے گا۔
۲
؎ان کا نامحُمَیْدَہْتھا ان کے حالات زندگی کا پتہ نہیں ملا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 504