Main Icon

باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 511

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَلمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ فِيْ غَزْوَة تبوكَ عَلٰى بَيْتٍ، فَإِذَا قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَسَأَلَ الْمَاءَ، فَقَالُوا لَهٗ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ: "دِبَاغُهَا طَهُورُهَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن سلمة بن المحبق قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء في غزوة تبوك على بيت، فإذا قربة معلقة فسأل الماء، فقالوا له: يا رسول الله إنها ميتة، فقال: "دباغها طهورها". رواه أحمد وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلمہ ابن محبق سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم جنگ تبو ک میں ۲؎ایک کے گھر تشریف لے گئے وہاں مشک لٹکی ہوئی تھی آپ نے پانی مانگا وہ بولے یارسول الله یہ مردار کی کھال ہے فرمایا اس کا پکالینااس کی پاکی ہے۳؎(احمدوابوداود)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،شام کے رہنے والے۔بعض لوگوں نےمحبقکیبکو زیر پڑھا ہے مگر صحیح فتح ہے۔آپ سے خواجہ حسن بصری وغیرہ نے روایت لی ہیں۔
۲
؎تبوک مدینہ منورہ اورشام کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے،غزوۂ تبوک ۹ھمیں ہوا یہ حضور کا آخری باقاعدہ غزوہ ہے۔
۳
؎ان لوگوں نے اپنے خیال میں اس مشک کو ناپاک خیال کیاہواتھا اور اس کا پانی پیتے نہ تھے بلکہ گارے وغیرہ میں استعمال کرتے تھے۔حضور نے ارشادفرمایا کہ یہ پکنے سے پاک ہوچکی ہے اس کا پانی پینا بھی جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 511