Main Icon

باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 497

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ: أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صغِيْرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَسَهٗ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ حِجْرِهٖ فَبَالَ عَلٰى ثَوْبِهٖ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهٗ وَلَمْ يَغْسِلْهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أم قيس بنت محصن: أنها أتت بابن لها صغير لم يأكل الطعام إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأجلسه رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجره فبال على ثوبه، فدعا بماء فنضحه ولم يغسله. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ام قیس بنت محصن سے ۱؎کہ وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو جو کھانا نہ کھاتا تھا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائیں حضور نے اسے اپنی گود میں بٹھالیا اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کردیاحضور نے پانی منگایا اس پر پانی بہادیا خوب نہ دھویا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ حضرت عکاشہ ابن محصن کی بہن ہیں،قبیلہ بنی اسد سے ہیں،مکہ معظمہ میں اسلام لائیں،پھر ہجرت کی۔
۲
؎اس حدیث کی بناءپربعض لوگوں نے کہا کہ شیرخوارلڑکے کا پیشاب پاک ہے۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ ناپاک تو ہے لیکن صرف پانی کے چھینٹے سے پاک ہوجاتا ہے،دھونے کی ضرورت نہیں۔ہمارے امام صاحب کے نزدیک نجاست غلیظہ ہے،دھونا فرض۔یہاںنَضْحٌکے معنی پانی بہاناہے نہ کہ چھینٹا دینا اورلَمْ یَغْسِلْکے معنی ہیں بہت مبالغہ سے نہ دھویا کیونکہ ایسے لڑکے کا پیشاب پتلا اورکم بدبودار ہوتا ہے،ورنہ یہینَضْحٌحضرت اسماء کی حدیث میں حیض کے خون کے بارے میں آچکا ہے اگر یہاں اس لفظ سےشیرخوارلڑکے کا پیشاب پاک مانا جائے یا وہاں چھینٹا مانا جائے تو حیض کا خون بھی پاک ماننا پڑے گا اور وہاں چھینٹا کافی ماننا پڑے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 497