Main Icon

باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 491

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِفَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "دَعُوهُ وَهَرِيْقُوْا عَلٰى بَوْلِهٖ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ أَوْ ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍفَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِيْنَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِيْنَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعنه قال: قام أعرابي فبال في المسجدفتناوله الناس، فقال لهم النبي -صلى الله عليه وسلم: "دعوه وهريقوا على بوله سجلا من ماء أو ذنوبا من ماءفإنما بعثتم ميسرين، ولم تبعثوا معسرين". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں کھڑے ہوکر پیشاب کردیااسے لوگوں نے پکڑلیا اوران سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو ۱؎اور اس کے پیشاب پر پانی کا ڈول بہادو ۲؎کیونکہ تم آسانی کرنے والے بھیجے گئے مشکل میں ڈالنے والے نہیں بھیجے گئے ۳؎(بخاری )

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اسے نہ مارو پیٹو کیونکہ یہ شرعی احکام سے ناواقف ہے۔اسلام سے پہلے لوگ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے اور سب کے سامنے ننگے ہونے کو عیب نہ جانتے تھے،نیز وہ مسجد کے آداب وغیرہ سے بے علم تھے۔معلوم ہوا کہ ناواقف پر سختی نہ کی جائے اسے نرمی سے سمجھایا جائے۔
۲
؎بعض نے فرمایا کہسجلاورذنوبکے ایک ہی معنی ہیں یعنی ڈول بڑاہویاچھوٹا۔بعض نے کہا ہے کہسجلبڑے ڈول کو کہتے ہیں،اورذنوبمطلقًا ڈول کو۔خیال رہے کہ یہسجلسکے زبر،جاورلکے سکون سے ہے،ساورجکے زیر اورلکے شدّ سےسجل،بمعنی کاتب و منشی،یونہیذنوبذکے زبر سے بمعنی ڈول اورذکے پیش سےذنبکی جمع،بمعنے گناہ۔
۳
؎خیال رہے کہ زمین اگرچہ سوکھ کر پاک ہوجاتی ہے لیکن زمین کا دھونا بہت ہی بہتر ہے کہ اس سے گندگی کا رنگ و بوبھی جلدی جاتا رہتا ہے اور اس سے تیمم بھی جائز ہوجاتا ہے۔اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ ناپاک زمین بغیر دھوئے پاک نہیں ہوسکتی جیسا کہ امام شافعی فرماتے ہیں۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا مسجد دھلوانا اس لئے تھا کہ وقت نماز قریب تھا،زمین جلدی سوکھ کر پاک نہ ہوسکتی تھی،نیز مسجد میں پاکی کے علاوہ صفائی بھی چاہیئے اور یہ دھلنے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 491