Main Icon

باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 501

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَتْ: كَانَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ فِيْ حِجْرِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَال عَلٰى ثَوْبِهٖ، فَقُلْتُ: الْبَسْ ثَوْبًا، وَأَعْطِنِيْ إِزَارَكَ حَتّٰى أَغْسِلَهٗ، قَالَ: "إِنَّمَا يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الأُنْثٰى، وَيُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّكَرِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

عن لبابة بنت الحارث قالت: كان الحسين بن علي في حجر رسول الله صلى الله عليه وسلم فبال على ثوبه، فقلت: البس ثوبا، وأعطني إزارك حتى أغسله، قال: "إنما يغسل من بول الأنثى، وينضح من بول الذكر". رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت لبابہ بنت حارث سے ۱؎فرماتی ہیں کہ حضرت حسین ابن علی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھے کہ آپ کے کپڑے پر پیشاب کردیا۲؎میں نے عرض کیا کہ اور کپڑا پہن لیجئے اپنا تہبند مجھے دے دیجئے کہ دھوؤں فرمایا لڑکی کے پیشاب کو خوب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب سے پانی بہادیا جاتا ہے۳؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱؎آپ کی کنیت ام فضل ہے،قبیلہ بنی عامر سے ہیں،حضرت میمونہ کی ہمشیرہ اور سیدنا عباس کی زوجہ ہیں،حضرت عباس کی اکثر اولاد آپ سے ہی ہے،بی بی خدیجہ کے بعد سب سے پہلے عورتوں میں آپ اسلام لائیں،عبدبن عباس اور فضل ابن عباس جیسے اسلام کے شہزادوں کی ماں ہیں۔
۲
؎عشاق کہتے ہیں کہ نانا کی گود میں پیشاب کرنا سنت حسین ہے اور نواسے سے اپنے کپڑوں پر پیشاب کرانا سنت رسولہے۔سنا گیا ہے کہ حضرت مجددسرہندی رضی اللہ عنہ نے وصیت کی تھی کہ میرے بعد میرے ایک نواسہ(یعنی بیٹی کا لڑکا)ہوگا اس بچے سے میری قبر پر پیشاب کرادیا جائے پھر قبر دھو دی جائے کیونکہ ساری سنتوں پر میں نے عمل کیا،نواسے سے پیشاب کرالینے کی سنت ادا نہیں ہوسکی،یہ سنت میری قبر پر ادا کرائی جائے۔سبحان ﷲ!فتویٰ عشق کچھ اور ہی ہے۔
۳
؎کیونکہ شیر خوار بچی کا پیشاب بچے کے پیشاب سے زیادہ بدبودار ہوتا ہے،نیز کپڑے پر پھیلتا زیادہ ہے اس لئے معمولی پانی سے دھلتا نہیں،لڑکے کا پیشاب اس کے برعکس ہے۔یہ حدیث امام اعظم کی خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 501