Main Icon

باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 493

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِيْ بَكْرٍ قَالَتْ: سَأَلَتْ امْرَأَةٌ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَرَأَيْتَ إحْدَانَا إِذَا أَصَابَ ثَوْبَهَا الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ كَيْفَ تَصْنَعُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذا أَصَابَ ثَوْبَ إِحْدَاكُنَّ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ فَلْتَقْرُصْهُ،ثُمَّ لِتَنْضَحْهُ بِمَاءٍ ثُمَّ لِتُصَلِّ فِيهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أسماء بنت أبي بكر قالت: سألت امرأة رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقالت: يا رسول الله! أرأيت إحدانا إذا أصاب ثوبها الدم من الحيضة كيف تصنع؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا أصاب ثوب إحداكن الدم من الحيضة فلتقرصه،ثم لتنضحه بماء ثم لتصل فيه". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسماء بنت ابی بکر سے فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یارسول الله! فرمایئے تو ہم میں سے جب کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو کیا کرے؟تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو اسے مل دے پھر پانی سے دھو دے پھر اس میں نماز پڑھ لے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سے چندمسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حیض کا خون نجاست غلیظہ ہے اس لئے اس کے دھونے میں مبالغہ کرنا چاہیئے اسی لئے سرکار نے دھونے سے قبل ملنے کا حکم دیا۔دوسرے یہ کہ ناپاک کپڑا دھلتے ہی پاک ہوجاتا ہے اس لئے سوکھنا شرط نہیں۔تیسرے یہ کہنضحکے معنی چھڑکنایاچھینٹا دینا نہیں بلکہ دھونا ہیں کیونکہ حیض کا خون پانی کے چھینٹے سے پاک نہیں ہوتا،خوب دھویا جاتا ہے،لہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ شیر خوار لڑکے کا پیشاب چھینٹے سے پاک نہیں ہوتا اس کا دھونا ضروری ہے کیونکہ وہاں بھی لفظنضحہی آرہا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 493