Main Icon

باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5338

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ حَبِيبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:إِنِّي لَسْتُ كُلَّ كَلَامِ الْحَكِيمِ أَتَقبَّلُ، وَلَكِنِّي أَتَقَبَّلُ هَمَّهُ وَهَوَاهُ، فَإِنْ كَانَ هَمُّهُ وَهَوَاهُ فِي طَاعَتِي جَعَلْتُ صَمْتَهُ حَمْدًا لِي وَوَقَارًا وإِنْ لمْ يَتَكَلَّمْ". رَوَاهُ الدَّارمِيُّ.

وعن المهاجر بن حبيب قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "قال الله تعالى:إني لست كل كلام الحكيم أتقبل، ولكني أتقبل همه وهواه، فإن كان همه وهواه في طاعتي جعلت صمته حمدا لي ووقارا وإن لم يتكلم". رواه الدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مہاجر ابن حبیب سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اتعالٰی فرماتا ہے کہ میں حکمت والے کا ہر کلام قبول نہیں کرتا لیکن میں اس کا ارادہ اس کی خواہش قبول کرتا ہوں ۲؎تو اگر اس کا ارادہ اور اس کی خواہش میری فرمانبرداری میں ہو تو اس کی خاموشی کو بھی اپنی حمد اور وقار بنا دیتا ہوں اگرچہ کچھ نہ بولے ۳؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎مہاجرابن حبیب غالبًا صحابی ہیں اور یہ حدیث مرسل نہیں مگر آپ کے حالات قطعًا معلوم نہ ہوسکے حتی کہ صاحب مشکوۃ نے آپ کا ذکر نہ کیا اپنی کتاب الاکمال میں۔
۲
؎یعنی ہماری بارگاہ میں الفاظ مقبول نہیں نیت و ارادہ قبول ہے،الفاظ بغیر اخلاص ایسے ہیں جیسے بادام بغیر مغز یا درخت بغیر پھل یعنی محض بیکار۔مولانا فرماتے ہیں؎مابروں راننگریم و قال را مادروں رابنگریم و حال را
قال رابگزار مرد حال شو زیر پائے کاملے پامال شو
۳
؎یعنی اخلاص والے کی خاموشی بھی عبادت ہے حمد الٰہی ہے،اس خاموشی سے لوگوں کو فیض پہنچ جاتا ہے،بغیر اخلاص کی گفتگو بھی بیکار ہے۔ہمارے ہاں پنجاب میں ایک بار مولانا یار محمد صاحب بہاولپوری رحمۃ اللہ علیہ نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا کہ آج ہم نے چپ کا وعظ کرناہے یہ کہہ کر خاموش ہوگئے،دس منٹ کے بعد لوگوں میں جوش پھیل گیا،بعض لوگوں کو غشی بے ہوشی طاری ہوگئی، اگر زیادہ دیر یہ سلسلہ جاری رہتا تو خطرہ تھا کہ بعض لوگوں کی موت واقع ہوجائے یہ ہے خاموشی والی عبادت،بعض بزرگ مراقبہ میں فیض دیدیتے ہیں۔غرضکہ
مصرع خموشی معنی وارد کہ در گفتن نمی آید
بعض لوگ چیخ چیخ کر گلا پھاڑ لیتے ہیں کوئی اثر نہیں ہوتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5338