Main Icon

باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5315

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ"، وَفِي رِوَايَةٍ: "فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ هُوَ لِلَّذِي عَمِلَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "قال الله تعالى: أنا أغنى الشركاء عن الشرك، من عمل عملا أشرك فيه معي غيري تركته وشركه"، وفي رواية: "فأنا منه بريء هو للذي عمله". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتےہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ میں تمام شریکوں سے شرک سے بے نیاز ہوں ۱؎جو کوئی کوئی عمل کرے جس میں میرے ساتھ میرے غیر کو شریک کرے تو میں اسے اس کے شرک کے ساتھ چھوڑوں گا ۲؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ میں اس سے بری ہوں وہ اس کے لیے ہے جس کے لیے عمل کرے ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دنیا والے اپنے حصہ داروں شریکوں سے راضی و خوش ہوتے ہیں کیونکہ وہ اکیلے اپنا کام نہیں کرسکتے مگر میں شریکوں سے پاک بے نیاز ہوں مجھے کسی شریک کی ضرورت نہیں۔شرکاء سے مراد دنیا کے شریک ہیں جو آپس میں ایک دوسرے کے حصہ دار ہوتے ہیں لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔ بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں روئے سخن مشرکین سے ہے اور معنی یہ ہیں کہ تم لوگوں نے جن چیزوں کو میرا شریک ٹھہرایا ہے میں ان سے بے نیاز بھی ہوں بے زار بھی،بے نیاز کو شریک کی کیا ضرورت ہے۔
۲
؎یعنی جو شخص میری عبادات میں میرے ساتھ میرے بندوں کو بھی راضی کرنا چاہے خالص میرے لیے عبادت نہ کرے تو میں اس پر نظر کرم نہ کروں گا،اس سے فرماؤں گا کہ جاؤ انہیں سے ثواب لو جنہیں راضی کرنے کی تم نے نیت کی تھی۔حضرات صوفیاء فرماتے ہیں کہ عبادت میں جنت حاصل کرنے، دوزخ سے بچنے کی نیت کرنا بھی ایک قسم کا شرک ہے،اللہ کے بندے بنو جنت یا دوزخ کے بندے نہ بنو،اگر اللہ تعالٰی جنت دوزخ پیدا نہ کرتا تو کیا وہ عبادت کا مستحق نہ ہوتا۔
۳
؎یعنی جو شخص دوسروں کی رضا کے لیے ہی عبادت یا میری رضا کے لیے بھی کرے دوسروں کی رضا کے لیے بھی وہ عمل میرے لیے نہیں،انہیں دوسروں کے لیے ہے ان سے ہی ثواب لے۔ خیال رہے کہ عبادات میں اللہ تعالٰی کے ساتھ اس کے رسول کی رضا کی نیت ریا نہیں بلکہ عبادت کا کمال ہے کہ حضور کی رضا اللہ کی رضاء ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاللہُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرْضُوۡہُ"یہاں اہلِ دنیا مراد ہیں چودھری امیر یا عوام۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5315