Main Icon

باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5334

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الأَصْغَرُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الشِّرْكُ الأَصْغَرُ؟ قَالَ: "الرِّيَاءُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.وَزَادَ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ": "يَقُولُ اللَّهُ لَهُمْ يَوْمَ يُجَازِي الْعِبَادَ بِأَعْمَالِهِمْ: اذْهَبُوا إِلَى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاؤُونَ فِي الدُّنْيَا فَانْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ عِنْدَهُمْ جَزَاءً أوْخَيْرًا؟ ".

وعن محمود بن لبيد أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "إن أخوف ما أخاف عليكم الشرك الأصغر"، قالوا: يا رسول الله وما الشرك الأصغر؟ قال: "الرياء". رواه أحمد.وزاد البيهقي في "شعب الإيمان": "يقول الله لهم يوم يجازي العباد بأعمالهم: اذهبوا إلى الذين كنتم تراؤون في الدنيا فانظروا هل تجدون عندهم جزاء أوخيرا؟ ".

حدیث ترجمہ

روایت ہے محمود ابن لبید سے ۱؎کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جن چیزوں سے میں تم پر ۲؎خوف کرتا ہوں ان سب میں زیادہ خوفناک چیز چھوٹا شرک ہے لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ چھوٹا شرک کیا ہے فرمایا ریا کاری ۳؎(احمد)بیہقی نے شعب الایمان میں یہ زیادتی کی کہ اللہ تعالٰی ان سے فرمائے گا اس دن جس دن بندوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا ۴؎کہ ان کے پاس جاؤ جنہیں تم دنیا میں اعمال دکھاتے رہے کہ کیا انکے پاس تم جزا یا بھلائی پاتے ہو ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاری ہیں،اشہلی ہیں،آپ کی صحابیت میں اختلاف ہے، امام مسلم نے آپ کو تابعی مانا ہے، امام بخاری آپ کو صحابی کہتے ہیں ،امام بخاری کا قول قوی ہے، حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت آپ کی عمر صرف پانچ سال تھی۔(مرقات،اشعہ امیر علی)
۲
؎علیکممیں خطاب یا تو حضرات صحابہ کرام سے ہے یا سارے مسلمانوں سے ۔مطلب یہ ہے کہ ہر مؤمن کے لیے خطرات بہت ہیں مگر ریا کا خطرہ سب سے زیادہ خطرناک ہے کہ اس سے بچنا بہت مشکل،بڑے بڑے اس میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔
۳
؎یہ پہلی وہ حدیث ہے جس میں ریا کو شرک اصغر فرمایا گیا ہے۔مشرک اپنی عبادات سے اپنے جھوٹے معبودوں کو راضی کرنے کی نیت کرتا ہے،ریاکار اپنی عبادات سے اپنے چھوٹے مقصودوں یعنی لوگوں کو راضی کرنے کی نیت کرتا ہے اس لیے ریاکار چھوٹے درجہ کا مشرک ہے اور اس کا یہ عمل چھوٹے درجہ کا شرک ہے،چونکہ ریاکار کا عقیدہ خراب نہیں ہوتا عمل و ارادہ خراب ہوتا ہے اور کھلے مشرک کا عقیدہ بھی خراب ہوتا ہے اس لیے ریا کو چھوٹا شرک فرمایا۔
۴
؎یعنی قیامت کے دن جب اعمال کے بدلے دیئے جانے کا وقت آوے گا تو ریاکار بھی مخلصین کے ساتھ جزا اعمال کا انتظار کریں گے تب ان سے کہا جاوے گا۔
۵
؎یعنی ان مخلصین کے ٹولہ سے الگ ہوجاؤ جنہیں خوش کرنے کے لیے تم اعمال کرتے تھے،ان سے اپنے اعمال کا بدلہ لو وہ ہی تم کو بدلہ دیں،یہ فرمان عالی انتہائی غضب کے اظہار کے لیے ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5334