Main Icon

باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5336

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَنْ كَانَتْ لَهُ سَرِيرَةٌ صَالِحَةً أَوْ سَيِّئَةً أَظْهَرَ اللَّهُ مِنْهَا رِدَاءً يُعْرَفُ بِهِ".

وعن عثمان بن عفان قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من كانت له سريرة صالحة أو سيئة أظهر الله منها رداء يعرف به".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عثمان ابن عفان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جس کی جو سیرت ہوگی اچھی یا بری اتعالٰی اس کی علامت ظاہر فرمائے گا جس سے وہ پہچانا جاوے گا ۱؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث ابھی گزری ہوئی حدیث کی شرح ہے اس کا مطلب وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ نیک اعمال کا نور چہرہ پر ظاہر ہوتا ہے، رب تعالٰی فرماتا ہے:"سِیۡمَاہُمْ فِیۡ وُجُوۡہِہِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوۡدِ"۔تجربہ تو یہ ہے کہ خوف خدا عشق جناب مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم دل میں ہو تو چہرہ اور ہی طرح کا ہوجاتا ہے،بعض بزرگوں کے چہرے دیکھ کر کافر مسلمان ہوگئے اور گنہگاروں نے صرف چہرہ دیکھ کر گناہوں سے توبہ کرلی متقی بن گئے آخرت میں تو نیک و بداعمال چہرہ سے ظاہر ہو ہی جائیں گے،کچھ دنیا میں بھی ظہور ہوجاتا ہے،بعض بدکاریوں سے منہ کالا ہوجاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5336