Main Icon

باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5325

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ شِرَّةٌ، وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ، فَإِنْ صَاحِبُهَا سَدَّدَ وَقَارَبَ فَارْجُوهُ، وَإِنْ أُشِيرَ إِلَيْهِ بِالأَصَابعِ فَلَا تَعُدُّوهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي هريرة قال: قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "إن لكل شيء شرة، ولكل شرة فترة، فإن صاحبها سدد وقارب فارجوه، وإن أشير إليه بالأصابع فلا تعدوه". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ہر چیز کی ایک خوشی ہے اور ہر خوشی کی ایک کمزوری ہے ۱؎تو اگر خوشی والا درست رہے اور قریب رہے تو میں اس کی کامیابی کی امید کرو ۲؎اور اگر اس کی طرف انگلیوں سے اشارے کیے جاویں تو اسے کچھ گنتی میں نہ لاؤ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی کے دو مطلب ہیں: ایک یہ کہ ہر عمل کے دو طرف ہیں زیادہ رغبت اور بے رغبتی یہ دونوں چیزیں ناقص ہیں درمیانی چال اچھی ہے ۔نماز روزہ سے ایسی رغبت کہ انسان تارک الدنیا ہوکر انہیں میں مشغول رہے یہ بھی ناقص ہے اور بالکل بے رغبت ہوجاوے کہ اس کے قریب نہ جاوے یہ بھی برا ہے، درمیانی حال کہ نماز روزہ بھی کرے دوسرے کام بھی کرے یہ اچھا ہے ،اشعۃ اللمعات نے اس کو اختیار کیا ہے۔د وسرے یہ کہ ہر عمل میں پہلے تو خوب رغبت ہوتی ہے بعد میں بے رغبتی ہوجاتی ہے یہ برا ہے، بعض لوگ نماز شروع کرتے ہیں تو پہلے تہجد،اشراق،چاشت سب کچھ پڑھتے ہیں،چند روز بعد پنجگانہ بھی چھوڑ دیتے ہیں یہ برا ہے،بقدر طاقت کام کرو ہمیشہ کرو،صرف پنج گانہ پڑھو نوافل بہت سے نہ پڑھو صرف پنج گانہ پڑھو مگر پڑھو ہمیشہ یہ محبوب ہے ۔مرقات نے یہ ہی معنی کیے۔شرۃشین کے کسرہ سے،رے کے فتحہ سے بمعنی خوشی ،حرص،افراط،انہماک ہے۔ (مرقات،اشعہ)
۲
؎یعنی جو شخص بقدر طاقت اعمال کرے مگر کرے ہمیشہ وہ کامیاب ہے۔سددسے مراد ہے ہمیشہ کرنا اور قارب سے مراد ہے درمیانی راہ چلنا جو افراط و تفریط سے خالی ہو اور۔ارجویا تو امر جمع مذکر ہے یعنی امید کرو یا واحد متکلم مضارع ہے یعنی میں امیدکرتاہوں پہلے معنی زیادہ قریب ہیں،یعنی تم جس کو درمیانی چال والا ہمیشہ عمل کرنے والا دیکھو تو اس کی کامیابی کی امید کرو کہ وہ مرتے دم تک قائم رہے گا۔
۳
؎یعنی اگر کوئی شخص زیادہ عبادات کی وجہ سے لوگوں میں مشہور ہوجاوے کہ ہر طرف سے لوگ اس کی طرف اشارہ کریں کہ یہ صاحب بڑے عبادت گزار شب بیدار ہیں،اسے دھیان میں نہ لاؤ کہ ایسے لوگ کچھ ہوتے نہیں اگر ہوتے ہیں تو کچھ رہتے نہیں، ان میں ریا تکبر پیدا ہوجانے کا خطرہ ہے خاتمہ کا اعتبار ہے۔شعر
حکم مستوری و مستی ہمہ ہر خاتم است کس ندانست کہ آخر بچہ حالت گزرد
شیخ نے فرمایا کہ عادۃ الہیہ ہے کہ وہ کریم زیادہ تر بروں کا خاتمہ اچھا کردیتا ہے اور اچھوں کا خاتمہ بہت کم خراب کرتا ہے دیکھو اشعۃ اللمعات،ا
تعالٰی خاتمہ بالخیر کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5325