Main Icon

باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5326

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يُشَارَ إِلَيْهِ بِالأَصَابِعِ فِي دِينٍ أَوْ دُنْيَا إِلَّا مَنْ عَصَمَهُ اللَّهُ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن أنس عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "بحسب امرئ من الشر أن يشار إليه بالأصابع في دين أو دنيا إلا من عصمه الله". رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ انسان کی شر کے لیے یہ کافی ہے کہ اس کی طرف دین یا دنیا میں انگلیوں سے اشارہ کیا جاوے ۱؎سواء اس کے جسے امحفوظ رکھے ۲؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دنیاوی کمالات دولت،صحت،طاقت میں یوں ہی دینی کمالات علم،عبادت،ریاضت میں مشہور ہونا عوام کے لیے خطرناک ہی ہے کہ اس سے عمومًا دل میں غرور تکبر پیدا ہوجاتے ہیں اس سے گمنامی اچھی چیز ہے ۔
۲
؎یعنی ہاں بعض بندے ایسے بھی ہیں کہ وہ شہرت سے متکبر نہیں ہوتے وہ سمجھتے ہیں کہ نیک نامی و بدنامی اللہ کے قبضہ میں ہے اورلوگوں کا کوئی اعتبار نہیں،انہیں زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگاتے دیر نہیں لگتی۔حضور کے تحمل کا یہ حال ہے کہ
پیش او گیتی جبیں فرسودہ است خویشتن راعبدہ فرمودہ است

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5326