Main Icon

باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5317

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْخَيْرَ وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ، وَفِي رِوَايَةٍ: يُحِبُّهُ النَّاسُ عَلَيْهِ، قَالَ: "تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي ذر قال: قيل لرسول الله -صلى الله عليه وسلم-: أرأيت الرجل يعمل الخير ويحمده الناس عليه، وفي رواية: يحبه الناس عليه، قال: "تلك عاجل بشرى المؤمن". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا گیا کہ فرمایئے تو ایک شخص اچھا کام کرتا ہے اور لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں ۱؎اور ایک روایت میں ہے کہ اس عمل پر لوگ اس سے محبت کرتے ہیں فرمایا یہ مؤمن کی فوری بشارت ہے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آزمائش کرلو کہ جو کام اللہ کے لیے چھپ کر کرو خود بخود اس کا چرچہ ہوجاتا ہے اور لوگ اس کی تعریفیں کرنے لگتے ہیں،لوگ چھپ کر تہجد پڑھتے ہیں مگر ان کے چہرے کا نور ان کا یہ عمل شائع کردیتا ہے۔اشارتًا اس سوال میں یہ صورت بھی داخل ہے سوال یہ ہے کہ یارسول اللہ کیا یہ بھی ریا ہے۔
۲
؎یعنی یہ ریا نہیں ہے بلکہ قبولیت کی علامت ہے کہ لوگوں کے منہ سے خود بخود اس کی تعریف نکلتی ہے۔صحابہ کرام کے چھپے ہوئے عمل اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں حضور نے احادیث میں ایسے شائع کیے کہ آج تک دنیا میں مشہور ہیں یہ بشارت ربانی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الۡاٰخِرَۃِ"غرضکہ ریا کا تعلق عامل کی نیت سے ہے کہ وہ دکھلاوے شہرت کی نیت سے نیکی کرے یہ ہے ریا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5317