Main Icon

باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5322

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! بَيْنَا أَنَا فِي بَيْتِي فِي مُصَلَّايَ إِذْ دَخَلَ عَلَيَّ رَجُلٌ، فَأَعْجَبَنِي الْحَالُ الَّتِي رَآنِي عَلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "رَحِمَكَ اللَّهُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، لَكَ أَجْرَانِ: أَجْرُ السِّرِّ وَأَجْرُ الْعَلَانِيَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

وعن أبي هريرة قال: قلت: يا رسول الله! بينا أنا في بيتي في مصلاي إذ دخل علي رجل، فأعجبني الحال التي رآني عليها، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "رحمك الله يا أبا هريرة، لك أجران: أجر السر وأجر العلانية". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ جب کہ میں اپنے گھر میں اپنے مصلے پر تھا ۱؎کہ میرے پاس ایک شخص آگیا ۲؎تو مجھے اپنی حالت پسند آئی جس پر مجھے اس نے دیکھا ۳؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے ابوہریرہ تم پر اللہ رحمت کرے تم کو دو ثواب ہیں علانیہ کا ثواب اور خفیہ کا ثواب ۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اپنے گھر میں مصلے پر نوافل نماز یا ورد وظیفہ پڑھ رہا تھا کیونکہ حضرات صحابہ فرض نمازیں مسجد میں جماعت سے پڑھا کرتے تھے۔گھر کا ذکر اس لیے فرمایا تاکہ معلوم ہو کہ میں ریا کاری کے لیے یہ عمل نہ کررہا تھا ورنہ لوگوں کے مجمع میں کرتا گھر کے گوشہ میں نہ کرتا۔
۲
؎اور اس آنے والے نے مجھے مصلے پر یہ عمل کرتے دیکھا۔آگیا فرما کر یہ بتایا کہ میں نے اسے نہ بلایا تھا نہ اس کا آنا چاہا تھا اتفاقًا ہی آگیا،آنے والا ان کا کوئی ایسا عزیز و قریبی ہوگا جو بغیر اذن مانگے اس کے یا آپ کے گھر والوں نے اسے اجازت دے دی ہوگی۔
۳
؎آپ کو یہ خوشی یا تو اس لیے تھی کہ وہ آنے والا بھی میری طرح یہ اعمال کرے مجھے دیکھ کر تو اس کے اعمال میں مجھے بھی ثواب ملے یا اس لیے کہ وہ مسلمان میرے اس عمل پر بلکہ میرے ایمان و اسلام پر گواہ ہوجاؤے کل قیامت میں بارگاہِ الٰہی میں مسلمانوں بلکہ لوگوں بلکہ اکی مخلوق کی گواہیاں بہت ہی کام آویں گی۔بہرحال یہ غرور کی خوشی نہ تھی اکے اس کرم کی خوشی تھی۔
۴
؎یعنی تمہارے اس کام کی ابتداء محض اخلاص پر تھی اسی سے تم گھر کے گوشہ میں یہ کام کررہے تھے اللہ تعالٰی نے تمہارے اس کام کو ظاہر فرمادیا یہ بھی اس کرم ہے۔تمہارا اس پر خوش ہونا کہ مجھے مسلمان نے برے کام پر نہ دیکھا اچھے کام پر دیکھا یہ خوشی بھی اکا کرم ہے اس پر بھی ثواب ہے کہ یہ خوشی شکر کی ہے نہ کہ فخر کی۔غافل زیادتی مال سے خوش ہوتا ہے مؤمن عاقل توفیق اعمال سے،رب تعالٰی فرماتاہے:"قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوۡا"۔فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جسے گناہ پر رنج ہو نیکی پر خوشی وہ کامل مؤمن ہے لہذا تمہیں اس خوشی پر ثواب ہے۔(مرقات و اشعہ)بہرحال ریا اور اخلاص کا مدار نیت پر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5322