باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5328
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمًا إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-، فَوَجَدَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَاعِدًا عِنْدَ قَبْرِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: يُبْكِينِي شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "إِنَّ يَسِيرَ الرِّيَاءِ شِرْكٌ، وَمَنْ عَادَى لِلَّهِ وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَ اللَّهَ بِالْمُحَارَبَةِ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الأَبْرَارَ الأَتْقِيَاءَ الأَخْفِيَاءَ الَّذِينَ إِذَا غَابُوا لَمْ يُفْتَقَّدُوا، وَإِنْ حَضَرُوا لَمْ يُدْعَوْا وَلَمْ يُقَرَّبُوا، قُلُوبُهُمْ مَصَابِيحُ الْهُدَى، يَخْرُجُونَ مِنْ كُلِّ غَبْرَاءَ مُظْلِمَةٍ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
وعن عمر بن الخطاب: أنه خرج يوما إلى مسجد رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فوجد معاذ بن جبل قاعدا عند قبر النبي -صلى الله عليه وسلم- يبكي، فقال: ما يبكيك؟ قال: يبكيني شيء سمعته من رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "إن يسير الرياء شرك، ومن عادى لله وليا فقد بارز الله بالمحاربة، إن الله يحب الأبرار الأتقياء الأخفياء الذين إذا غابوا لم يفتقدوا، وإن حضروا لم يدعوا ولم يقربوا، قلوبهم مصابيح الهدى، يخرجون من كل غبراء مظلمة". رواه ابن ماجه والبيهقي في "شعب الإيمان".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے کہ وہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مسجد کی طرف گئے تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر انور کے پاس معاذ ابن جبل کو بیٹھا ہوا پایا جو رو رہے تھے ۱؎تو فرمایا کہ آپ کو کون سی چیز رلاتی ہے ۲؎بولے مجھے وہ چیز رلاتی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنی تھی ۳؎میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے ۴؎اور جو اﷲکے ولی سے دشمنی کرے وہ اﷲکے سامنے جنگ کے لیے آگیا ۵؎اﷲتعالٰی پسند کرتا ہے ان نیکوں پرہیزگاروں چھپے ہوؤں کو کہ جب وہ غائب ہوجاویں تو ڈھونڈھے نہ جائیں اور اگر حاضر ہوں تو نہ بلائے جاویں نہ قریب کیے جاویں ۶؎ان کے دل ہدایت کے چراغ ہوں ۷؎ہر تاریک گرد آلود سے نکلیں ۸؎(ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)
شرح حدیث
۱∞؎اس زمانہ میں حجرہ شریف میں دروازہ تھا جس سے لوگ قبر انور تک پہنچ جاتے بہت عرصہ کے بعد دروازہ بند کردیا گیا اب قبر انور تک کوئی نہیں پہنچ سکتا آپ خاص قبر انور سے متصل بیٹھے ہوئے رو رہے تھے۔
۲؎حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اے معاذ کیوں رو رہے ہو فراق رسول صلی اللہ علیہ و سلم رلا رہا ہے یا کوئی اور تکلیف۔ معلوم ہوا کہ مسلمان بھائی کو تکلیف میں دیکھے تو ضرور وجہ پوچھے اگر ہوسکے تو اس کی تکلیف دور کرنے کی کوشش کرے۔
۳؎یعنی میں نے ایک نصیحت حضور سے سنی مگر اس پر عمل نہ کرسکا اپنی اس محرومی یا معذوری پر رو رہا ہوں۔
۴؎علماء فرماتے ہیں کہ ریا کے بہت درجے ہیں کچھ درجے چھوٹی چیونٹی سے زیادہ باریک ہیں۔انسان ان کو ریا نہیں سمجھتا مگر وہ ہے ریا،ان سے بچنا بہت مشکل ہے اس سے تو خاص لوگوں کا بچنا مشکل ہے عوا م کا تو ذکر ہی کیا ہے مجھے خطرہ ہے کہ میں بھی ریا کے کسی درجہ میں مبتلا ہوں۔
۵؎یعنی میرے رونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اﷲکے دوستوں کی ایذا رب سے جنگ ہے اور اﷲکے اولیاء ایسے چھپے ہوئے ہیں کہ ان کی پہچان بہت مشکل ہے ،بہت دفعہ پڑوسیوں د وستوں سے شکر رنجی ہوجاتی ہے،ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی ولی اللہ ہو ان کی تکلیف میرے لیے مصیبت بن جاوے۔حدیث قدسی میں ہےاولیائی تحت قبائی لایعرفھم غیریمیرے ولی میری قبا میں رہتے ہیں انہیں میرے سوا کوئی نہیں پہچانتا۔(مرقات)خیال رہے کہ اولیاء اﷲدو قسم کے ہیں: تکوینی ولی اور تشریعی ولی۔تکوینی ولی جو دنیا کے سیاہ سفید کے مالک و مختار بنادیئے جاتے ہیں،ان کی تعداد مقرر ہے مگر تشریعی اولیاء اللہ تعداد میں جہاں چالیس متقی مسلمان جمع ہوں وہاںان شاءاللهایک ولی ضرور ہوتاہے، اس ولی کو خود بھی خبر نہیں ہوتی کی میں ولی ہوں مگر ہوتا ہے ولی۔اس کی بحثان شاءاللهمشکوٰۃ شریف آخری باب میں ہوگی ۔
۶؎غالبًا اس سے وہ ہی اولیاء تشریعی مراد ہیں اور ہوسکتا ہے کہ اولیاء تکوینی بھی اسی میں داخل ہوں کہ اکثر ان میں سے چھپے ہوئے رہتے ہیں کم وہ حضرات ہیں جنہیں مخلوق پہچانتی ہے جیسے حضور غوث پاک یا خواجہ اجمیری یا داتا گنج بخش ہجویری وغیرہم۔خیال رہے کہ نبوت کا اعلان ضروری ہے مگر ولایت کا اعلان ضروری نہیں،اکثر اعلان ولایت کرنے والے خالی ہوتے ہیں۔شیخ سعدی نے فرمایا شعر
ایں مدعیاں در طلبش بے خبر اند آنرا کہ خبر شد خبرش باز نہ آمد
علماء کے لیے اعلان ضروری ہےکہ یہ نائبین رسول ہیں،نبوت کا اعلان ضروری،اولیاء اﷲاکثر چھپے رہتے ہیں،علماء دین اسلام کی ظاہری پولیس ہیں،اکثر اولیاء اﷲخفیہ پولیس یہ حضرات بھی اپنے کو ولی نہیں کہتے۔بعض اولیاء کے متعلق لوگوں کی زبان سے خواہ مخواہ ولی نکلتا ہے۔
۷؎جیسے چراغ سے ہدایت و نور ملتا ہے ایسے ہی ان کے دلوں ان کی نگاہوں سے لوگوں کو نور ملتا ہے یہ حضرات حقانیت اسلام کی دلیلیں ہیں۔حق دین وہ ہے جس میں اولیاء اﷲہوں انہیں کا راستہ صراط مستقیم ہے،رب فرماتاہے:"صِرٰطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ"اور فرماتاہے:"وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ"۔اسی شاخ کا تعلق جڑ سے قائم ہے جس میں سبزہ پھول ہیں،سوکھی شاخ کا تعلق جڑ سے ٹوٹ چکا وہ آگ کے لائق ہے،اسلام کی اسی شاخ کا تعلق حضور سے قائم ہے جس میں ولایت کے پھول ہوں۔
۸؎یعنی یہ اولیاء اﷲتاریک گھروں غیر مشہور محلوں نامعلوم بستیوں سے پیدا ہوتے رہیں گے۔شعر
خاک ساران جہاں رابحقارت منگر توچہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد
یا یہ مطلب ہے کہ وہ حضرات تاریک گردو غبار والے عقائد و اعمال و شبہات سے نکل جائیں گے کبھی اس میں پھنسیں گے نہیں۔ (مرقات)امام غزالی فرماتے ہیں کہ ہر عالم دین متقی ولی اللہ ہے اگر متقی عالم ولی نہ ہو تو کوئی ولی ہی نہیں۔(مرقات)مشہور یہ ہے کہ جس سے روحانی فیوض جاری ہوں انہیں صوفیاء اولیاء کہاجاتا ہے،جن سے شرعی فیوض جاری ہوں انہیں علماء کہتے ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5328