Main Icon

باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5328

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمًا إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-، فَوَجَدَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَاعِدًا عِنْدَ قَبْرِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: يُبْكِينِي شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "إِنَّ يَسِيرَ الرِّيَاءِ شِرْكٌ، وَمَنْ عَادَى لِلَّهِ وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَ اللَّهَ بِالْمُحَارَبَةِ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الأَبْرَارَ الأَتْقِيَاءَ الأَخْفِيَاءَ الَّذِينَ إِذَا غَابُوا لَمْ يُفْتَقَّدُوا، وَإِنْ حَضَرُوا لَمْ يُدْعَوْا وَلَمْ يُقَرَّبُوا، قُلُوبُهُمْ مَصَابِيحُ الْهُدَى، يَخْرُجُونَ مِنْ كُلِّ غَبْرَاءَ مُظْلِمَةٍ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن عمر بن الخطاب: أنه خرج يوما إلى مسجد رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فوجد معاذ بن جبل قاعدا عند قبر النبي -صلى الله عليه وسلم- يبكي، فقال: ما يبكيك؟ قال: يبكيني شيء سمعته من رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "إن يسير الرياء شرك، ومن عادى لله وليا فقد بارز الله بالمحاربة، إن الله يحب الأبرار الأتقياء الأخفياء الذين إذا غابوا لم يفتقدوا، وإن حضروا لم يدعوا ولم يقربوا، قلوبهم مصابيح الهدى، يخرجون من كل غبراء مظلمة". رواه ابن ماجه والبيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے کہ وہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مسجد کی طرف گئے تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر انور کے پاس معاذ ابن جبل کو بیٹھا ہوا پایا جو رو رہے تھے ۱؎تو فرمایا کہ آپ کو کون سی چیز رلاتی ہے ۲؎بولے مجھے وہ چیز رلاتی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنی تھی ۳؎میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے ۴؎اور جو اکے ولی سے دشمنی کرے وہ اکے سامنے جنگ کے لیے آگیا ۵؎اتعالٰی پسند کرتا ہے ان نیکوں پرہیزگاروں چھپے ہوؤں کو کہ جب وہ غائب ہوجاویں تو ڈھونڈھے نہ جائیں اور اگر حاضر ہوں تو نہ بلائے جاویں نہ قریب کیے جاویں ۶؎ان کے دل ہدایت کے چراغ ہوں ۷؎ہر تاریک گرد آلود سے نکلیں ۸؎(ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎اس زمانہ میں حجرہ شریف میں دروازہ تھا جس سے لوگ قبر انور تک پہنچ جاتے بہت عرصہ کے بعد دروازہ بند کردیا گیا اب قبر انور تک کوئی نہیں پہنچ سکتا آپ خاص قبر انور سے متصل بیٹھے ہوئے رو رہے تھے۔
۲
؎حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اے معاذ کیوں رو رہے ہو فراق رسول صلی اللہ علیہ و سلم رلا رہا ہے یا کوئی اور تکلیف۔ معلوم ہوا کہ مسلمان بھائی کو تکلیف میں دیکھے تو ضرور وجہ پوچھے اگر ہوسکے تو اس کی تکلیف دور کرنے کی کوشش کرے۔
۳
؎یعنی میں نے ایک نصیحت حضور سے سنی مگر اس پر عمل نہ کرسکا اپنی اس محرومی یا معذوری پر رو رہا ہوں۔
۴
؎علماء فرماتے ہیں کہ ریا کے بہت درجے ہیں کچھ درجے چھوٹی چیونٹی سے زیادہ باریک ہیں۔انسان ان کو ریا نہیں سمجھتا مگر وہ ہے ریا،ان سے بچنا بہت مشکل ہے اس سے تو خاص لوگوں کا بچنا مشکل ہے عوا م کا تو ذکر ہی کیا ہے مجھے خطرہ ہے کہ میں بھی ریا کے کسی درجہ میں مبتلا ہوں۔
۵
؎یعنی میرے رونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اکے دوستوں کی ایذا رب سے جنگ ہے اور اکے اولیاء ایسے چھپے ہوئے ہیں کہ ان کی پہچان بہت مشکل ہے ،بہت دفعہ پڑوسیوں د وستوں سے شکر رنجی ہوجاتی ہے،ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی ولی اللہ ہو ان کی تکلیف میرے لیے مصیبت بن جاوے۔حدیث قدسی میں ہےاولیائی تحت قبائی لایعرفھم غیریمیرے ولی میری قبا میں رہتے ہیں انہیں میرے سوا کوئی نہیں پہچانتا۔(مرقات)خیال رہے کہ اولیاء ادو قسم کے ہیں: تکوینی ولی اور تشریعی ولی۔تکوینی ولی جو دنیا کے سیاہ سفید کے مالک و مختار بنادیئے جاتے ہیں،ان کی تعداد مقرر ہے مگر تشریعی اولیاء اللہ تعداد میں جہاں چالیس متقی مسلمان جمع ہوں وہاںان شاءاللهایک ولی ضرور ہوتاہے، اس ولی کو خود بھی خبر نہیں ہوتی کی میں ولی ہوں مگر ہوتا ہے ولی۔اس کی بحثان شاءاللهمشکوٰۃ شریف آخری باب میں ہوگی ۔
۶
؎غالبًا اس سے وہ ہی اولیاء تشریعی مراد ہیں اور ہوسکتا ہے کہ اولیاء تکوینی بھی اسی میں داخل ہوں کہ اکثر ان میں سے چھپے ہوئے رہتے ہیں کم وہ حضرات ہیں جنہیں مخلوق پہچانتی ہے جیسے حضور غوث پاک یا خواجہ اجمیری یا داتا گنج بخش ہجویری وغیرہم۔خیال رہے کہ نبوت کا اعلان ضروری ہے مگر ولایت کا اعلان ضروری نہیں،اکثر اعلان ولایت کرنے والے خالی ہوتے ہیں۔شیخ سعدی نے فرمایا شعر
ایں مدعیاں در طلبش بے خبر اند آنرا کہ خبر شد خبرش باز نہ آمد
علماء کے لیے اعلان ضروری ہےکہ یہ نائبین رسول ہیں،نبوت کا اعلان ضروری،اولیاء ا
اکثر چھپے رہتے ہیں،علماء دین اسلام کی ظاہری پولیس ہیں،اکثر اولیاء اخفیہ پولیس یہ حضرات بھی اپنے کو ولی نہیں کہتے۔بعض اولیاء کے متعلق لوگوں کی زبان سے خواہ مخواہ ولی نکلتا ہے۔
۷
؎جیسے چراغ سے ہدایت و نور ملتا ہے ایسے ہی ان کے دلوں ان کی نگاہوں سے لوگوں کو نور ملتا ہے یہ حضرات حقانیت اسلام کی دلیلیں ہیں۔حق دین وہ ہے جس میں اولیاء اہوں انہیں کا راستہ صراط مستقیم ہے،رب فرماتاہے:"صِرٰطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ"اور فرماتاہے:"وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ"۔اسی شاخ کا تعلق جڑ سے قائم ہے جس میں سبزہ پھول ہیں،سوکھی شاخ کا تعلق جڑ سے ٹوٹ چکا وہ آگ کے لائق ہے،اسلام کی اسی شاخ کا تعلق حضور سے قائم ہے جس میں ولایت کے پھول ہوں۔
۸
؎یعنی یہ اولیاء اتاریک گھروں غیر مشہور محلوں نامعلوم بستیوں سے پیدا ہوتے رہیں گے۔شعر
خاک ساران جہاں رابحقارت منگر توچہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد
یا یہ مطلب ہے کہ وہ حضرات تاریک گردو غبار والے عقائد و اعمال و شبہات سے نکل جائیں گے کبھی اس میں پھنسیں گے نہیں۔ (مرقات)امام غزالی فرماتے ہیں کہ ہر عالم دین متقی ولی اللہ ہے اگر متقی عالم ولی نہ ہو تو کوئی ولی ہی نہیں۔(مرقات)مشہور یہ ہے کہ جس سے روحانی فیوض جاری ہوں انہیں صوفیاء اولیاء کہاجاتا ہے،جن سے شرعی فیوض جاری ہوں انہیں علماء کہتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5328