Main Icon

باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5331

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُول: "مَنْ صَلَّى يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ، وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ، وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ". رَوَاهُمَا أَحْمَدُ.

وعن شداد بن أوس قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "من صلى يرائي فقد أشرك، ومن صام يرائي فقد أشرك، ومن تصدق يرائي فقد أشرك". رواهما أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت شداد ابن اوس سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو دکھلاوے کے لیے نماز پڑھے اس نے شرک کیا اور جو دکھلاوے کے لیے روزہ رکھے اس نے شرک کیا اور جو دکھلاوے کے لیے صدقہ دے اس نے شرک کیا ۱؎یہ دونوں حدیثیں احمد نے روایت کیں۔

شرح حدیث

۱∞؎شرک دو قسم کا ہے:شرک جلی،شرک خفی۔شرک جلی تو کھلم کھلا شرک و بت پرستی کرنا ہے۔شرک خفی ریا کاری ہے،یوں کہو کہ شرک اعتقادی تو کھلا ہوا شرک ہے اور شرک عملی ریا کاری ہے۔ صوفیاء فرماتے ہیںکل ما صدك عن الله فھو صنمكجو تمہیں اللہ سے روکے وہ ہی تمہارا بت ہے،نفس امارہ بھی بت ہے۔ اسی حدیث سے معلوم ہوا کہ روزے میں بھی ریا کاری ہوسکتی ہے،ہاں روزے میں ریا خالص نہیں ہوسکتی اسی لیے ارشاد ہےالصوم لی وانا اجزی بہ۔بعض لوگ روزہ رکھ کر لوگوں کے سامنے بہت کلیاں کرتے،سر پر پانی ڈالتے رہتے ہیں،کہتے پھرتے ہیں ہائے روزہ بہت لگا ہے بڑی پیاس لگی ہے وغیرہ وغیرہ یہ بھی روزے کی ریاء ہے اوراس حدیث میں داخل ہے۔ خیال رہے کہ ریاء کی دو قسمیں ہیں: ایک ریا اصل عمل میں،دوسری ریا وصف عمل میں۔اصل عمل میں ریا یہ ہے کہ کوئی دیکھے تو یہ نماز پڑھ لے نہ دیکھے تو نمازپڑھے ہی نہیں۔وصف عمل میں ریاء یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے نمازخوب اچھی طرح پڑھے تنہائی میں معمولی طرح پڑھے،پہلی ریا بہت بری ہے دوسری ریاء پہلی سے کم۔شیخ سعدی فرماتے ہیں؎کلید در دوزخ است آں نماز کہ در روئے مردم گزاری دراز

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5331