Main Icon

باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5318

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي سَعِیدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِذَا جَمَعَ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِيَوْمٍ لَا ريبَ فِيهِ نَادَى مُنَادٍ: مَنْ كَانَ أشركَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ أَحَدًا فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ؛ فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكاءِ عَنِ الشِّرْكِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

عن أبي سعید بن أبي فضالة عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "إذا جمع الله الناس يوم القيامة ليوم لا ريب فيه نادى مناد: من كان أشرك في عمل عمله لله أحدا فليطلب ثوابه من عند غير الله؛ فإن الله أغنى الشركاء عن الشرك". رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید ابن ابی فضالہ سے ۱؎وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی حضور نے فرمایا کہ جب قیامت کے دن اللہ لوگوں کو جمع فرمائے گا اس دن جس میں کوئی شک نہیں توپکارنے والا پکارے گا ۲؎کہ جس نے ایسے کام میں جو اللہ کے لیے کئے کسی کو شریک ٹھہرایا ۳؎تو وہ اس کا ثواب بھی غیر خدا سے مانگے۴؎کیونکہ اشریکوں میں شرک سے بے نیاز ہے ۵؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کی کنیت ہی آپ کا نام ہے،آپ انصاری حارثی ہیں، اہلِ مدینہ سے ہیں،مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں صرف ابو سعید ہے لوگ ابو سعید خدری سمجھے یہ غلط ہے۔
۲
؎یعنی قیامت کے دن ایک فرشتہ اللہ تعالٰی کی طرف سے اعلان فرمائے گا یہ اعلان تمام لوگوں کو سنانے کے لیے ہوگا۔
۳
؎یعنی جو کام رضائے الٰہی کے لیے کیے جاتے ہیں ان میں کسی بندے کے رضا کی نیت کرے۔بندے سے مراد دنیا دار بندہ ہے اور ظاہر کرنا بھی اپنی ناموری کے لیے ہونا مراد ہے لہذا جو شخص اپنی عبادت میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی رضا کی بھی نیت کرے یا جو کوئی مسلمانوں کو سکھانے کی نیت سے لوگوں کو اپنے اعمال دکھائے وہ اس وعید میں داخل نہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ریا صرف عبادات میں ہوتی ہے معاملات اور دوسرے دنیاوی کام تو دکھانے کے لیے ہی کیے جاتے ہیں ان میں ریا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اسی لیے عمل کے ساتھعملہ للهفرمایا گیا۔
۴
؎یعنی آج اعمال کے بدلہ کا دن ہے دنیا میں جس کی رضا کے لیے عبادت کی تھی آج اسی سے جنت بھی مانگو یہ انتہائی سختی و ناراضی کا اظہار ہے،اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریاکار کبھی بخشا ہی نہ جائے گا ہر مؤمن آخرکار بخشا جائے گا۔
۵
؎اس فرمان عالی کی دو شرحیں ابھی گزشتہ حدیث میں عرض کی جاچکی ہیں۔شرکاء سے مراد دنیا کے شریک و حصہ دار ہیں یا مشرکین کے بت وغیرہ جنہیں وہ اکے شریک جانتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5318